نو عمر صارفین کے تحفظ کیلئے میٹا کا بڑا قدم، اے آئی میں نئی حفاظتی تدابیر متعارف

میٹا اپنی مصنوعی ذہانت پر مبنی مصنوعات میں نو عمر صارفین کے لیے نئے حفاظتی اقدامات شامل کر رہا ہے۔ ان اقدامات میں نظام کو اس طرح تربیت دینا شامل ہے کہ وہ کم عمر بچوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ پر مبنی گفتگو یا خودکشی اور خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق باتوں سے گریز کرے، اور عارضی طور پر… میٹا کے ترجمان اینڈی اسٹون نے جمعے کے روز ایک ای میل میں بتایا کہ کمپنی یہ وقتی اقدامات اس دوران کر رہی ہے۔ جب طویل مدتی اقدامات تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ نو عمر صارفین کو محفوظ اور عمر کے لحاظ سے موزوں مصنوعی ذہانت کے تجربات فراہم کیے جا سکیں۔ اسٹون نے کہا کہ یہ حفاظتی اقدامات پہلے ہی نافذ ہونا شروع ہو گئے ہیں اور جیسے جیسے کمپنی اپنے نظام کو بہتر بناتی ہے، ان میں مزید تبدیلیاں بھی کی جائیں گی۔ میٹا کی مصنوعی ذہانت کی پالیسیاں اس وقت سخت جانچ پڑتال اور مخالفت کا شکار ہوئیں جب رائٹرز کی ایک رپورٹ سامنے آئی۔ امریکی سینیٹر جوش ہاؤلی نے اس ماہ کے آغاز میں فیس بک کی بنیادی کمپنی کی مصنوعی ذہانت کی پالیسیوں پر تحقیقات شروع کیں اور ان دستاویزات کا مطالبہ کیا۔ جن میں یہ بتایا گیا تھا کہ گفتگو کرنے والے خودکار نظاموں (چیٹ بوٹس) کو کم عمر بچوں کے ساتھ نامناسب انداز میں بات کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ کانگریس میں ڈیموکریٹ اور ری پبلکن دونوں اراکین نے ان قواعد پر تشویش کا اظہار کیا جو ایک اندرونی میٹا دستاویز میں درج تھے، جسے سب سے پہلے رائٹرز نے دیکھا تھا۔ میٹا نے اس دستاویز کی تصدیق کی تھی لیکن کہا تھا کہ رواں ماہ کے آغاز میں رائٹرز کے سوالات موصول ہونے کے بعد کمپنی نے ان حصوں کو ہٹا دیا ہے۔ جن میں کہا گیا تھا کہ خودکار گفتگو کرنے والے نظاموں کے لیے بچوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یا رومانوی کردار ادا کرنا جائز ہے۔ اسٹون نے اس ماہ کے اوائل میں کہا تھا:”زیرِ بحث مثالیں اور نوٹس غلط تھے اور ہماری پالیسیوں کے خلاف تھے، اور انہیں ہٹا دیا گیا ہے۔”