امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت متعدد ممالک نے غزہ میں فوجی دستوں کی تعیناتی سے متعلق سوالات اٹھائے، جس کے بعد امن و امان کے قیام کے لیے اپنے فوجی دستے بھیجنے پر غور کرنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اس پیشکش پر پاکستان کا شکر گزار ہے۔ امریکی وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس کے دوران مارکو روبیو سے سوال کیا گیا کہ آیا پاکستان نے امریکا کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ وہ غزہ میں امن و امان کے لیے فوجی دستے بھیجنے پر آمادہ ہے یا نہیں۔ اس سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا اس بات پر پاکستان کا شکر گزار ہے کہ اس نے غزہ امن منصوبے کا حصہ بننے یا کم از کم اس پر غور کرنے کی پیش کش کی ہے۔ مارکو روبیو نے وضاحت کی کہ ان کے خیال میں پاکستان سمیت دیگر ممالک ابھی اس منصوبے سے متعلق کچھ سوالات کے جواب چاہتے ہیں، اور ان سوالات کے واضح ہونے کے بعد ہی کسی ملک سے باضابطہ طور پر یہ کہا جا سکے گا کہ وہ غزہ امن منصوبے کے لیے اپنی خدمات پیش کرے۔ کرپشن مقدمات ، اسرائیلی صدر نے ٹرمپ کی نیتن یاہو کو معاف کرنیکی درخواست مسترد کر دی انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ کئی ایسے ممالک موجود ہیں جو اس تنازعے میں شامل تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہیں اور جو آگے بڑھ کر غزہ استحکام فورس کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کے مطابق غزہ میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی سطح پر قابلِ قبول اور غیر جانبدار قوت کی شمولیت ناگزیر ہے، اور اس حوالے سے مختلف ممالک سے مشاورت جاری ہے۔






