حکومت نے پاکستان کے قومی شناختی نظام میں اصلاحات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت موجودہ فنگر پرنٹ پر مبنی تصدیق کو مرحلہ وار جدید فیس ریکگنیشن سسٹم سے تبدیل کیا جائے گا۔ سرکاری حکام کے مطابق یہ تبدیلی شہریوں کی شناخت کے لیے فراہم کی جانے والی خدمات میں ایک اہم موڑ ہے، حالیہ برسوں میں جعلی فنگر پرنٹس کے ذریعے فراڈ کے کئی کیسز سامنے آئے، خاص طور پر سم کارڈ کے اجراء اور مالی لین دین میں، جس نے اس نظام میں اصلاح کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کی شناخت کے عمل کو مزید محفوظ بنانا اور مالیاتی فراڈ کو کم کرنا ہے۔ یہ فیصلہ 29 جنوری 2026 کو قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں پیش کیا گیا۔ نادرا کا بایومیٹرک فنگر پرنٹ سسٹم سالوں سے بینکوں، ٹیلی کام کمپنیوں اور سرکاری اداروں میں شناخت کی تصدیق کا بنیادی ستون رہا ہے۔ تاہم حکام نے بتایا کہ جرائم پیشہ عناصر نے اس سسٹم کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی یا کلون کیے گئے فنگر پرنٹس استعمال کیے، جس سے شہریوں کی شناخت اور مالی تحفظ خطرے میں پڑ گیا۔ وزیر مملکت داخلہ، طلال چوہدری نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ فنگر پرنٹ پر مبنی تصدیق سنگین سیکیورٹی خدشات کے باعث ختم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی انگوٹھے کے نشانات کے ذریعے مالی فراڈ کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں، جس سے شہریوں کی شناخت اور مالی تحفظ خطرے میں پڑ گیا ہے۔ فیس ریکگنیشن ٹیکنالوجی اپنانا اب ناگزیر ہو گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ فیس ریکگنیشن سسٹم نہ صرف زیادہ تیز اور درست تصدیق فراہم کرے گا بلکہ یہ زیادہ شفاف بھی ہوگا۔ اسے نادرا، بینکنگ سیکٹر اور ٹیلی کام کمپنیوں کے نظام میں مربوط کیا جائے گا، جس سے جعلی شناخت اور غیر مجاز لین دین کے امکانات تقریباً ختم ہو جائیں گے۔ تابش ہاشمی کے بیان پر شرجیل میمن برہم، عمران عباس نے کھل کر حمایت کر دی کمیٹی کے اراکین نے فیصلے کا خیرمقدم کیا، مگر شہریوں کی پرائیویسی اور ذاتی ڈیٹا کے تحفظ پر زور دیا۔ حکام نے تصدیق کی کہ فیس ریکگنیشن کے لیے جامع قانونی اور تکنیکی فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے، اور منظوری کے بعد اسے مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی پاکستان کو عالمی معیار کے مطابق ڈیجیٹل سیکیورٹی کے میدان میں لے جائے گی، کیونکہ کئی ممالک پہلے ہی قومی شناخت کی تصدیق کے لیے فیس ریکگنیشن ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں تاکہ فراڈ پر قابو پایا جا سکے اور سروسز کی فراہمی بہتر بنائی جا سکے۔






