رمضان المبارک میں جہاں افطار دسترخوان پھلوں کے بغیر ادھورا لگتا ہے، وہیں ان کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عام شہری کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔ افطار سے قبل تازہ پھلوں کی طلب میں اضافہ ہوتے ہی دکاندار قیمتیں بڑھا دیتے ہیں، جس سے خریداری مہنگی پڑتی ہے۔ مہنگا وقت کون سا ہوتا ہے؟ اکثر لوگ عصر کے بعد خریداری کے لیے نکلتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب خریداروں کی تعداد زیادہ اور وقت کم ہوتا ہے۔ دکاندار جانتے ہیں کہ گاہک جلدی میں ہے اور قیمت پر زیادہ بحث نہیں کرے گا، اس لیے نرخ بلند رکھے جاتے ہیں۔ سستا وقت کون سا ہے؟ پھل فروش صبح سویرے منڈی سے مال لاتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ سارا اسٹاک اسی دن فروخت ہو جائے۔ افطار کے بعد خریدار کم ہو جاتے ہیں، جس کے باعث دکاندار باسی ہونے سے پہلے مال کم منافع پر بیچنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ افطار کے بعد رات گئے تک قیمتوں میں 50 سے 100 روپے تک کمی دیکھی جا سکتی ہے۔ کئی دکاندار مناسب آفر قبول کر لیتے ہیں تاکہ اگلے دن کے لیے تازہ مال منڈی سے لا سکیں۔ بجٹ میں خریداری کا طریقہ افطار سے پہلے کے بجائے بعد میں خریداری کریں۔ مختلف دکانوں پر قیمت کا موازنہ کریں۔ مقدار کے مطابق مناسب سودے بازی کریں۔ اگلے دن کے لیے محفوظ کرنے کے قابل پھل منتخب کریں۔ جو خاندان محدود بجٹ میں رمضان گزارنا چاہتے ہیں، ان کے لیے افطار کے بعد کا وقت سستی اور معیاری خریداری کا بہترین موقع ثابت ہو سکتا ہے۔






