خوراک، پانی اور ہوا میں موجود پلاسٹک کے ننھے ذرات (مائیکرو پلاسٹکس) انسانی صحت کے لیے ایک نیا خطرہ بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ ایک نئی طبی تحقیق میں عندیہ دیا گیا ہے کہ یہ ذرات مردوں میں مثانے کے کینسر کے خطرے میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ تحقیق کیا کہتی ہے؟ امریکا کی نیویارک یونیورسٹیکی تحقیق میں انکشاف ہوا کہ مثانے کے کینسر میں مبتلا ہر 10 میں سے 9 مردوں کی رسولیوں کے نمونوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات موجود تھے۔ محققین کے مطابق کینسر زدہ ٹشوز میں مائیکرو پلاسٹکس کی مقدار مثانے کے صحت مند ٹشوز کے مقابلے میں زیادہ پائی گئی۔ پلاسٹک ہر جگہ موجود ماہرین کا کہنا ہے کہ روزمرہ زندگی میں پلاسٹک سے مکمل طور پر بچنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، کیونکہ بیشتر اشیاء یا تو پلاسٹک سے بنی ہوتی ہیں یا ان کی پیکنگ پلاسٹک میں کی جاتی ہے۔ ان مصنوعات سے خارج ہونے والے باریک ذرات انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس سے قبل بھی مائیکرو پلاسٹکس انسانی دل، شریانوں اور حتیٰ کہ رحم میں بھی دریافت کیے جا چکے ہیں۔ مزید تحقیق کی ضرورت تحقیق میں مثانے کے کینسر کے شکار 10 مریضوں کے سرجری کے بعد حاصل کیے گئے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا، جن میں سے 90 فیصد میں پلاسٹک کے ذرات پائے گئے۔ محققین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ نتائج تشویشناک ہیں، تاہم حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے مزید وسیع پیمانے پر تحقیق ضروری ہے۔






