جوان افراد میں ہارٹ اٹیک کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بعد ایک نئی تحقیق نے اموات کی شرح میں اضافے کا انکشاف کر دیا ہے، جس نے طبی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جرنل آف امریکن ہارٹ ایسوسیشن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق 2011 سے 2022 کے دوران 55 سال سے کم عمر افراد میں ہارٹ اٹیک سے اموات کی شرح میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا۔ تحقیق کی تفصیلات یہ تحقیق امریکا میں 2011 سے 2022 کے دوران ہارٹ اٹیک کے باعث اسپتال میں داخل ہونے والے 18 سے 54 سال کی عمر کے تقریباً 10 لاکھ افراد کے ڈیٹا کے تجزیے پر مبنی ہے۔ نتائج کے مطابق: پہلی بار ہارٹ اٹیک کے باعث اسپتال داخل ہونے والے نوجوان مریضوں کی اموات میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا۔ خواتین میں ہارٹ اٹیک کے بعد موت کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ پایا گیا۔ عام تاثر کے برعکس، ہارٹ اٹیک صرف معمر افراد کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ نوجوانوں میں بھی یہ ایک حقیقی خطرہ بن چکا ہے۔ خطرے کے اہم عوامل محققین کے مطابق مردوں اور خواتین دونوں میں خطرے کے عوامل تقریباً یکساں ہیں، جن میں شامل ہیں: کم آمدنی گردوں کے امراض تمباکو نوشی موٹاپا ہائی بلڈ پریشر بلند بلڈ شوگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اضافہ بظاہر کم محسوس ہوتا ہے، لیکن نوجوان آبادی میں اموات کی شرح میں اضافہ ایک سنگین اشارہ ہے۔ نتائج کی مزید تصدیق کے لیے اضافی تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔






