آیت اللہ خامنہ ای کی نقل و حرکت ٹریفک کیمروں سے ٹریک، انسانی ذریعہ موجود نہیں تھا، فنانشل ٹائمز کا بڑا دعویٰ

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے تہران کے ٹریفک کیمروں کو ہیک کر کے جدید الگورتھمز اور ڈیٹا مائننگ کے ذریعے ایرانی قیادت کی نقل و حرکت ٹریک کی۔ایک مؤقر مغربی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران میں اعلیٰ ایرانی قیادت کو ٹریک کرنے کیلئے اسرائیل نے شہر کے ٹریفک اور… رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس بازو یونٹ 8200 نے بڑے پیمانے پر ڈیٹا مائننگ اور مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز استعمال کیے، جن کے ذریعے سکیورٹی اہلکاروں کے معمولات، گاڑیوں کی پارکنگ، ڈیوٹی شیڈول اور نقل و حرکت کے پیٹرنز تیار کیے گئے۔ اخبار کے مطابق حملے سے قبل تہران کی مختلف معلوماتی فیڈز اسرائیلی انٹیلی جنس کے پاس موجود تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے ایرانی ریاستی نگرانی کے کیمروں کو حکومت کے خلاف استعمال کیا۔ الگورتھمز اور ڈیٹا مائننگ کا کردار رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے مسلسل موصول ہونے والے ڈیٹا کے بڑے ذخیرے کی تشریح کے لیے الگورتھمز تیار کیے، جس سے محافظوں کی روزمرہ سرگرمیوں اور سکیورٹی پیٹرنز کی مکمل تصویر سامنے آئی۔ ذرائع کے مطابق، امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے پاس بھی انسانی ذریعہ (ہیومن انٹیلی جنس) موجود تھا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ سیلولر سروس کی بندش کا دعویٰ رپورٹ میں کہا گیا کہ حملے کے روز تہران کی خیابانِ پاستور کے علاقے میں سیلولر سروس بھی منقطع کر دی گئی تھی، جس کے باعث ممکنہ انتباہی پیغامات بروقت نہیں پہنچ سکے۔ ایک اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا کہ “ہم تہران کو اسی طرح جانتے تھے جیسے یروشلم کو جانتے ہیں۔” تاحال سرکاری تصدیق نہیں ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے اس مخصوص رپورٹ پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔