دن کے آخر میں ٹانگوں میں سوجن یا بھاری پن کیوں ہوتا ہے؟

اگر دن کے اختتام پر آپ کی ٹانگیں بھاری محسوس ہوں، سوجن آ جائے یا ہلکا درد ہونے لگے تو اسے صرف تھکن سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ اکثر خون کی گردش یا جسم میں پانی کے بہاؤ میں خرابی کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ خون کی گردش میں خرابی ٹانگوں کی رگیں خون کو واپس دل کی طرف دھکیلتی ہیں، مگر جب یہ رگیں کمزور ہو جائیں تو خون اور پانی ٹانگوں میں جمع ہونے لگتا ہے۔ اسی وجہ سے صبح ٹانگیں معمول کے مطابق ہوتی ہیں لیکن دن گزرنے کے ساتھ ساتھ سوجن اور بھاری پن بڑھ جاتا ہے۔ بعض افراد میں ورائکوز وینز (سوجی ہوئی رگیں) بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ دل کی کمزوری بھی وجہ ہو سکتی ہے ماہرین کے مطابق اگر دل کمزور ہو تو خون کی روانی سست ہو جاتی ہے جس سے پانی ٹانگوں میں جمع ہونے لگتا ہے۔ ایسی صورت میں: شام کو سوجن بڑھ جاتی ہے چلنے یا کام کرنے پر سانس پھولنے لگتی ہے تھکن آرام کے باوجود کم نہیں ہوتی گردوں کے مسائل گردے جسم میں اضافی پانی اور نمک کو خارج کرتے ہیں۔ اگر گردے درست طریقے سے کام نہ کریں تو پانی ٹانگوں، پیروں اور بعض اوقات چہرے میں بھی جمع ہو سکتا ہے۔ لیمفیٹک نظام کی بیماری کچھ علاقوں میں مچھر کے ذریعے پھیلنے والی بیماری لیمفیٹک فلیریاسس لیمفیٹک نظام کو متاثر کرتی ہے جس سے ٹانگوں میں شدید سوجن پیدا ہو سکتی ہے۔ شدید صورت میں اسے عام طور پر ہاتھی پاؤں کہا جاتا ہے۔ جگر کی بیماری جگر جسم میں ایک اہم پروٹین بناتا ہے جو پانی کو جسم میں متوازن رکھتا ہے۔ جگر کے متاثر ہونے کی صورت میں یہ پروٹین کم ہو جاتا ہے جس سے پانی ٹانگوں اور پیٹ میں جمع ہونے لگتا ہے۔ زیادہ دیر کھڑے یا بیٹھے رہنا کششِ ثقل کے باعث دن بھر کھڑے رہنے یا زیادہ چلنے سے خون اور پانی ٹانگوں کی طرف نیچے جمع ہونے لگتا ہے۔ اگر خون کی گردش درست نہ ہو تو شام تک ٹانگیں بھاری محسوس ہونے لگتی ہیں۔ کب ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے؟ ماہرین کے مطابق ہر سوجن بیماری کی علامت نہیں ہوتی، یہ بعض اوقات ، طویل سفر، گرمی اور زیادہ نمکین غذا کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر سوجن روزانہ ہو، صرف ایک ٹانگ میں ہو، درد یا سرخی کے ساتھ ہو، سانس لینے میں دشواری ہو یا ٹخنوں کی جلد کا رنگ بدل جائے تو فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔

کیٹاگری میں : صحت