ماہرین کے مطابق شدید ذہنی دباؤ بالوں کے گرنے کی بڑی وجہ بن سکتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کورٹیسول ہارمون کی زیادتی بالوں کی جڑوں کو غیر فعال کر دیتی ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ بالوں کا کم ہونا ایک قدرتی عمل ہے، اور عام طور پر مردوں میں گنج پن کا امکان خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم طرزِ زندگی کے کچھ عوامل اور طبی مسائل کے باعث قبل از وقت بالوں کا گرنا بھی شروع ہو سکتا ہے۔ تناؤ بالوں کے گرنے کی اہم وجہ ماہرین کے مطابق شدید ذہنی دباؤ یا تناؤ بالوں کے گرنے کی رفتار کو بڑھا سکتا ہے۔ مایو کلینک کے مطابق جن افراد کو زیادہ تناؤ کا سامنا ہوتا ہے ان کے بال تیزی سے گرنے لگتے ہیں اور دوبارہ اگنے کی رفتار بھی سست ہو جاتی ہے۔ اکثر اوقات تناؤ کے باعث بالوں کا گرنا عارضی ہوتا ہے، مگر بعض حالات میں یہ مسئلہ مستقل گنج پن کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔ تناؤ سے بال کیوں گرتے ہیں؟ تحقیق کے مطابق جب جسم میں تناؤ کا باعث بننے والے ہارمون کورٹیسول کی سطح بڑھ جاتی ہے تو بالوں کی جڑیں غیر متحرک ہو جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں: بالوں کی نشوونما رک جاتی ہے بال ٹوٹتے رہتے ہیں نئے بال اگنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے بالوں کی نشوونما کے مراحل بالوں کی نشوونما کا عمل مختلف مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بالوں کے اگنے کے چار بنیادی مراحل ہوتے ہیں، مگر شدید تناؤ کی صورت میں یہ مراحل متاثر ہو جاتے ہیں جس سے بال گرنے لگتے ہیں۔ تناؤ سے بالوں کے گرنے کی تین اقسام ماہرین کے مطابق ذہنی دباؤ کے نتیجے میں بالوں کے گرنے کی تین اہم اقسام سامنے آ سکتی ہیں: ٹیلوجن ایفلوویئم (Telogen Effluvium) اس حالت میں بالوں کی جڑیں غیر فعال ہو جاتی ہیں اور برش یا دھونے کے دوران بڑی تعداد میں بال ٹوٹ جاتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس کا علاج ممکن ہے۔ الوپیشیا (Alopecia) اس بیماری میں جسم کا مدافعتی نظام بالوں کی جڑوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے جس سے سر کے مختلف حصوں سے بال اڑنے لگتے ہیں۔ ٹریکوٹیلومینیا (Trichotillomania) اس حالت میں شدید تناؤ کے شکار افراد اپنے ہی بال کھینچ کر توڑنے لگتے ہیں، جس سے بال دوبارہ اگنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تناؤ پر قابو پانا ضروری ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تناؤ کو قابو میں رکھا جائے تو اکثر صورتوں میں بالوں کی نشوونما دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے مناسب نیند، متوازن غذا، ورزش اور ذہنی سکون ضروری ہیں۔






