حالیہ تحقیق کے مطابق مالی مشکلات نہ صرف جیب بلکہ آپ کے دماغی خلیات پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ کولمبیا یونیورسٹی کے میل مین اسکول آف پبلک ہیلتھ میں ہونے والی اس تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ادھیڑ عمری یا بڑھاپے میں مالی استحکام کا بگڑنا انسانی دماغ کی کام کرنے کی صلاحیت کو تیزی سے متاثر کر سکتا ہے۔ محققین کے مطابق وہ افراد جن کی مالی حالت خراب ہوتی ہے،ان کی یادداشت کمزور ہو سکتی ہے اور علمی یا ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے کمی آ سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ یادداشت کا تھوڑا بہت کمزور ہونا ایک فطری عمل ہے، لیکن مالی دباؤ اس عمل کو غیر معمولی طور پر تیز کر دیتا ہے۔ مالی خوشحالی کا تعلق صرف زیادہ آمدنی سے نہیں ہے، بلکہ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ایک انسان اپنے مستقبل کے حوالے سے کتنا پرسکون ہے، کیا وہ اپنے بل بروقت ادا کر سکتا ہے اور کیا اسے خوراک، رہائش اور علاج جیسی بنیادی سہولیات تک آسان رسائی حاصل ہے؟ جب کوئی شخص مسلسل مالی غیر یقینی کا شکار رہتا ہے، تو یہ ذہنی تناؤ براہِ راست جسمانی اور دماغی صحت کو متاثر کرتا ہے، جو طویل مدت میں یادداشت کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔ اس مطالعے کے لیے محققین نے 2010 سے 2020 کے درمیان 50 سال یا اس سے زائد عمر کے 7,676 افراد کے ڈیٹا کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ دس سالہ طویل مشاہدے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ جن افراد کی مالی حالت اس عرصے کے دوران تنزلی کا شکار ہوئی، ان کے دماغی ٹیسٹ کے نتائج دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں کمزور رہے۔ سائنسدانوں نے واضح کیا ہے کہ جہاں صحت، تعلیم اور طرزِ زندگی کو دماغی تندرستی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، وہیں اب ’مالی سکون‘ کو بھی انسانی صحت کے ایک لازمی جزو کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ تعلق 65 سال سے زائد عمر کے افراد میں سب سے زیادہ نمایاں پایا گیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ بڑی عمر کے لوگ اکثر مقررہ آمدنی (پینشن وغیرہ) پر گزارہ کرتے ہیں، اس لیے کسی بھی اچانک مالی جھٹکے یا مہنگائی سے ریکوری ان کے لیے مشکل ہو جاتی ہے۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ مالی حالات خراب ہونے سے یادداشت تو تیزی سے گرتی ہے، لیکن حالات دوبارہ بہتر ہونے پر کھوئی ہوئی ذہنی صلاحیتیں ہمیشہ مکمل طور پر واپس نہیں آتیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی تناؤ کے اثرات دیرپا ہو سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ مسلسل مالی فکر انسانی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو کم کر دیتی ہے اور دماغی خلیات پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ اس کے علاوہ پیسے کی تنگی اچھی خوراک تک رسائی مشکل بنا دیتی ہے۔ صحت کی سہولیات نہ ملنا دماغی تنزلی کو مہمیز دیتا ہے۔ مالی مسائل انسان کو سماجی سرگرمیوں سے دور کر دیتے ہیں، جو کہ دماغی صحت کے لیے ضروری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مطالعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحت کا تعلق صرف جینیات یا طرزِ زندگی سے نہیں بلکہ معاشی حالات سے بھی ہے۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ بزرگ شہریوں کے لیے مالی امداد کے پروگرام اور وسائل تک آسان رسائی نہ صرف ان کی غربت ختم کرے گی بلکہ معاشرے میں ’ڈیمنشیا‘ (بھولنے کی بیماری) کے خطرات کو بھی کم کرے گی۔






