امریکی سینیٹر ٹرمپ پر برس پڑا، ایران کیخلاف جنگ فوری روکنے کا مطالبہ

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ پوری دنیا کو بحران سے دوچار کر رہےہیں، ایک شخص نے ملک کے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے رکھاہے، ہم اپنے ملک میں آمریت نہیں چاہتے۔ ایران جنگ کے خلاف امریکا کے مختلف شہروں میں 70 لاکھ سے زائد افراد کے نو کنگ مظاہرے شروع ہوگئے۔ نوکنگز مظاہرے سے امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ پر شدید تنقید کی۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا کہ امریکی صدرٹرمپ پوری دنیا کو بحران سے دوچار کر رہےہیں، آج ہمار اپیغام ہے، نو مور کنگز، ہم اپنے ملک میں آمریت نہیں چاہتے، ایک شخص نے ملک کے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے رکھاہے، امریکی تاریخ میں پہلے کبھی کسی نے طاقت کا اتنا غلط استعمال نہیں کیا۔ برنی سینڈرز نے کہا کہ عراق جنگ پر ہم سے جھوٹ بولا گیا، آج ایران کےخلاف جنگ پر ہم سے جھوٹ بولا جارہاہے، ایران کےخلاف جنگ اسرائیلی وزیراعظم نے شروع کی، ایک خود مختار ملک کے خلاف بلاجواز جنگ شروع کر کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا کہ غزہ میں ہزاروں افراد کو قتل کیاگیا، غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا، ایران میں اب تک دو ہزار شہری مارے جاچکے ہیں، اسرائیل کو امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے اسلحہ کی فراہمی روکی جائے۔ برنی سینڈرز نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹرمپ جھوٹ بول کر ایران کے خلاف جنگ میں امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسا ضائع کر رہےہیں، ایران کےخلاف جنگ کو فوری روکنا ہوگا، ٹیکس دہندگان کا پیسا تعلیم، صحت اور سستے گھروں کی تعمیر پرخرچ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکا کی تاریخ کا غیرمعمولی اور خطرناک لمحہ ہے، کئی حوالوں سے امریکا سمیت پوری دنیا کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے، آج ہم ڈونلڈ ٹرمپ کی آمریت کو مسترد کرتے ہیں، نہ صرف ٹرمپ بلکہ دیگر ارب پتی افراد کو ناں کہتےہیں۔ واضح رہے کہ اتوار کو بھی امریکا کی 50 ریاستوں میں 3ہزار200احتجاجی مظاہرےہوں گے۔