لاکھوں لوگ اپنی صحت کے مسائل کے لیے مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس سے رجوع کررہے ہیں لیکن ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ بوٹس مریضوں کو درست تشخیص دینے میں مددگار ثابت نہیں ہورہے۔ محققین نے لوگوں کو عام طبی علامات کی تفصیل دی اور انہیں تین مختلف چیٹ بوٹس میں سے کسی ایک کو استعمال کرنے یا پھر اپنی معمولی معلومات پر انحصار کرنے کا کہا جس کے نتائج حیران کن نکلے۔ چیٹ بوٹس استعمال کرنے والے افراد ان لوگوں کے مقابلے میں درست تشخیص بتانے میں کم کامیاب رہے جنہوں نے بوٹس استعمال نہیں کیے۔ علاج کے لیے صحیح جگہ تجویز کرنے میں بھی بوٹس استعمال کرنے والوں کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان بوٹس میں طبی معلومات کی کمی ہوتی ہے بلکہ یہ ماڈل میڈیکل کے امتحانات آسانی سے پاس کرسکتے ہیں اور جب محققین نے براہ راست علامات بوٹس کو دیں تو انہوں نے بہترین کارکردگی دکھائی۔ اصل مسئلہ انسانی مشین کے درمیان رابطے کا ہے۔ مریض علامات کو ادھورا یا غیر واضح بتاتے ہیں اور بوٹس کی بات کو غلط سمجھ لیتے ہیں یا بوٹس نے جو بتایا وہ یاد نہیں رکھ پاتے۔ ڈاکٹر کیوں بہتر ہیں؟ طب کو سائنس کے ساتھ ساتھ ایک فن بھی کہا جاتا ہے۔ ایک ڈاکٹر مریض سے تعلق بناتا ہے، اس کی پریشانی سمجھتا ہے، مناسب سوال پوچھتا ہے اور مریض کے ساتھ مل کر علاج کا فیصلہ کرتا ہے۔ یہ وہ خوبیاں ہیں جو مصنوعی ذہانت میں ابھی نہیں ہیں۔ اے آئی کا صحیح کردار اس کا مطلب یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کا صحت میں کوئی کردار نہیں۔ یہ نظام معلومات کو منظم کرنے، مریض کے ریکارڈ کا خلاصہ بنانے یا خطوط لکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں لیکن ابھی یہ ڈاکٹر کی جگہ نہیں لے سکتے۔ محققین کا کہنا ہے کہ مریضوں کو خود تشخیص کے لیے ان بوٹس پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔






