کیا لہسن کھانا خطرناک ہو سکتا ہے؟ جانیے

لہسن صدیوں سے اپنی صحت بخش خصوصیات کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف خوراک میں استعمال ہوتا ہے بلکہ سپلیمنٹس کے طور پر بھی کئی فائدے فراہم کرتا ہے۔ بلڈ پریشر میں کمی، کولیسٹرول کی بہتری اور قوتِ مدافعت بڑھانے کے لیے لہسن کو ایک بہترین قدرتی نسخہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم، حالیہ طبی رپورٹس میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طبی مشورے کے بغیر لہسن کے سپلیمنٹس یا اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال خطرناک سائیڈ افیکٹس کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر کچھ مخصوص گروپ کے لوگوں کے لیے۔ خون بہنے کا خطرہ لہسن میں خون کو پتلا کرنے کی قدرتی صلاحیت ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ دل کے لیے مفید ہے، لیکن خون کو پتلا کرنے والی ادویات کے ساتھ اس کا استعمال شدید خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ اس سے زخم دیر سے بھرنے، مسوڑھوں یا ناک سے خون بہنا اور شدید صورتوں میں اندرونی چوٹ کے باعث دماغی ہیمرج کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ پیٹ اور ہاضمے کے مسائل لہسن میں فرکٹینز نامی کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں جو آنتوں میں خمیر پیدا کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے کچھ لوگوں کو لہسن کھانے کے چند گھنٹوں بعد معدے میں جلن، تیزابیت اور پیٹ میں درد جیسی علامات محسوس ہو سکتی ہیں۔ یہ علامات خاص طور پر آئیریٹیبل باؤل سنڈروم یا کھانے سے الرجی والے افراد میں زیادہ عام ہیں۔ الرجک ردعمل اگرچہ یہ کم عام ہے، لہسن یا اس کے کچے اور پکے استعمال سے تقریباً 1 فیصد لوگوں میں الرجی ہو سکتی ہے۔ علامات میں دست، خارش، چکر آنا، اور پیٹ میں درد شامل ہیں۔ شدید یا بار بار ہونے والے ردعمل میں فوری طبی امداد ضروری ہو سکتی ہے۔ جلد پر جلن اور خارش بہت سے لوگ گھریلو ٹوٹکوں میں لہسن کو براہِ راست جلد پر لگاتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق لہسن کا براہِ راست جلد پر دیر تک لگا رہنا شدید جلن، خارش اور آبلے پیدا کر سکتا ہے جو کہ کیمیکل برن کے مترادف ہے۔ منہ کی بدبو اگرچہ طبی طور پر خطرناک نہیں، لیکن زیادہ کچا یا سپلیمنٹ لہسن استعمال کرنے سے کئی گھنٹوں تک منہ میں بدبو رہ سکتی ہے۔ یہ نہ صرف ذاتی بلکہ پیشہ ورانہ اور سماجی زندگی میں بھی شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین صحت کی ہدایت ہے کہ لہسن کے فوائد کے لیے ہمیشہ مناسب مقدار استعمال کریں اور کسی بھی سپلیمنٹ کے لیے ڈاکٹر کی رائے ضرور لیں۔

کیٹاگری میں : صحت