عالمی بینک نے پاکستان سے متعلق تازہ اکنامک اپڈیٹ رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں آئندہ مالی سال کے دوران مہنگائی میں اضافے اور معاشی ترقی کی رفتار میں مزید سست روی کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو تین فیصد رہنے کا امکان ہے، جو… عالمی بینک کے مطابق مالی سال 2025 میں معاشی ترقی کی شرح تین اعشاریہ ایک فیصد رہی تھی۔ افراط زر کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2025 میں اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً ساڑھے چار فیصد رہی۔ تاہم آئندہ مالی سال 2026 میں یہ بڑھ کر سات اعشاریہ چار فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے، جس سے عوام پر مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ عالمی بینک نے کرنٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے بھی خبردار کیا ہے کہ مالی سال 2025 میں اعشاریہ پانچ فیصد سرپلس رہنے کے بعد آئندہ مالی سال 2026 میں یہ ایک اعشاریہ دو فیصد خسارے میں جا سکتا ہے۔ دوسری جانب ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں بہتری کا رجحان برقرار ہے۔ اے ڈی بی کے مطابق رواں مالی سال شرح نمو 3.5 فیصد جبکہ آئندہ سال یہ بڑھ کر 4.5 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اے ڈی بی نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ اگرچہ مہنگائی 6 سے 6.5 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے، تاہم مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، مہنگی توانائی، کمزور ترسیلات زر اور بیرونی جھٹکے معیشت کے لیے ممکنہ خطرات برقرار رکھ سکتے ہیں۔






