ویٹیکن کے سربراہ پوپ لیو چہاردہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کڑی تنقید کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے ٹرمپ انتظامیہ سے کوئی خوف نہیں، امن کے پیغام پر قائم رہوں گا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار پوپ لیو چہاردہم نے افریقی ممالک کے دورے پر روانگی کے دوران طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پوپ لیو نے کہا کہ وہ انجیل کے پیغام کو بلند آواز میں بیان کرنے سے نہیں گھبراتے، یہ ان کی اولین ذمہ داری ہے۔ چرچ کا کام سیاست کرنا نہیں بلکہ امن کا پیغام دینا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم سیاست دان نہیں ہیں اور ہم خارجہ پالیسی کو اس نظر سے نہیں دیکھتے جیسے وہ دیکھتے ہیں لیکن میں بطور امن پسند انجیل کے پیغام پر یقین رکھتا ہوں۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک روز قبل پوپ لیو چہاردہم پر شدید تنقید کرتے ہوئے انھیں خارجہ پالیسی کے لیے ناموزوں قرار دیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایسے پوپ کے حامی نہیں جو ایران جیسے ملک کے حوالے سے نرم مؤقف رکھتا ہو خصوصاً جب کہ معاملہ جوہری ہتھیاروں کا ہو۔ جس پر ویٹیکن کے عہدیدار نے بھی ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صدر ایک اخلاقی آواز کو نشانہ بنا رہے ہیں کیونکہ وہ اسے دبانے میں ناکام ہیں۔ واضح رہے کہ پوپ لیو نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امن کا بادشاہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ مذہب کو جنگ کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ وہ جنگ کی حمایت کرنے والوں کی دعاؤں کو قبول نہیں کرتے۔






