میٹا کی نئی پالیسی، کمپنی نے نگرانی بڑھانے کا فیصلہ کر لیا

ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنی میٹا اپنے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سسٹمز کی تربیت کیلئے ملازمین کی نگرانی کرنے کیلئے تیار ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سامنے آنے والے ایک اندرونی میمو میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی ایک ٹریکنگ سافٹ ویئر متعارف کرا رہی ہے جو ملازمین کے ماؤس کی حرکات، کلکس اور کی سٹروکس کو ریکارڈ کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ سافٹ ویئر ملازمین کی سکرین پر ہونے والی سرگرمیوں کو بھی مانیٹر کر سکے گا۔ میمو میں مزید بتایا گیا کہ یہ سافٹ ویئر ماڈل کیپیبلیٹی انیشیئٹیو (ایم سی آئی) کے تحت کام کرے گا اور خاص طور پر گھریلو ماحول میں کام کرنے والے ملازمین کی ورک ایپس پر فعال ہوگا۔ ضرورت پڑنے پر یہ سسٹم سکرین شاٹس بھی لے سکے گا تاکہ ڈیٹا کو اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ مزید پڑھیں:یورپی یونین نے ایران پر عائد پابندیاں نرم کرنے کا اشارہ دے دیا کمپنی کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو مزید بہتر بنانا اور ان کی کارکردگی میں اضافہ کرنا ہے۔ تاہم اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد پرائیویسی اور ملازمین کے حقوق کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے کمپنیوں اور ملازمین کے درمیان اعتماد متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ ڈیٹا کے استعمال اور نگرانی کے دائرہ کار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔