عزاداری کی دنیا سے اس صدی کی سب سے بڑی اور سحر انگیز دستک!

27 سالہ طویل انتظار ختم: عالمی شہرت یافتہ نوحہ خواں کی سوزِ کربلا سے لبریز آواز میں واپسی!

ملتان (اسپیشل رپورٹ) عزادارانِ مظلومِ کربلا و شام کے لیے وہ گھڑی آ پہنچی ہے جس کا انتظار گزشتہ پونے تین دہائیوں سے کیا جا رہا تھا۔ دورِ حاضر کے ایک ایسے عالمی شہرت یافتہ نوحہ خواں، جن کی درد بھری آواز نے ایک زمانے کے دلوں کو گرمایا اور آنکھوں کو اشکبار کیا، پورے 27 سال کے طویل ترین وقفے کے بعد ایک بار پھر ذکرِ غمِ آلِ محمدؑ کے لیے مائیکروفون کے سامنے آ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، انہوں نے اس سال کے لیے اپنے انتہائی رقت آمیز نوحے ریکارڈ کروا دیے ہیں، جس کے بعد دنیا بھر میں موجود مکتبِ تشیع اور عاشقانِ اہلِ بیتؑ میں خوشی اور عقیدت کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔
سنسنی خیز انکشاف: اس سال ایک دو نہیں، پورے 5 نئے کلام ہوں گے ریلیز!
اس واپسی کو مزید تاریخی اور یادگار بنانے کے لیے ایک چونکا دینے والی خبر یہ سامنے آئی ہے کہ اس سال مداحوں کو صرف ایک یا دو نوحے سننے کو نہیں ملیں گے، بلکہ موصوف کے اپنے لکھے یا منتخب کردہ 5 شاہکار کلام ریلیز کیے جا رہے ہیں۔
ان نوحوں کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ ان میں مصائبِ کربلا اور مظلومیتِ شام کا وہ درد سمویا گیا ہے جو سننے والوں کو دشتِ کربلا اور بازارِ شام کے مہیب مناظر میں لے جائے گا۔ ریکارڈنگ اسٹوڈیو کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ:
“جب 27 سال بعد ان کی آواز اسٹوڈیو میں گونجی، تو وہاں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم ہو گئیں اور ایسا لگا جیسے وقت وہیں تھم گیا ہو۔ وہی پرانا سوز، وہی تڑپ اور وہی بے ساختگی آج بھی ان کی آواز کا خاصہ ہے”۔
سوشل میڈیا پر دھوم اور مداحوں کا اشتیاق
جیسے ہی یہ خبر منظرِ عام پر آئی، سوشل میڈیا کے تمام بڑے پلیٹ فارمز پر ایک طوفان سا آ گیا ہے۔ عزاداروں کا کہنا ہے کہ یہ اس صدی کی سب سے بڑی دستک ہے اور وہ ان 5 کلاموں کو سننے کے لیے بے چین ہیں۔ پونے تین دہائیوں کا یہ سفر کیسے طے ہوا اور ان کلاموں میں کیا خاص پیغام چھپا ہے، اس سے بہت جلد پردہ اٹھنے والا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں