آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی تجویز سامنے آگئی۔ تھنک ٹینک ‘ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ’ نے آئندہ مالیاتی بجٹ کے لیے اپنا “شیڈو بجٹ” پیش کر دیا، جس میں تنخواہ دار طبقے، کارپوریٹ سیکٹر اور ریئیل اسٹیٹ کے لیے ٹیکسوں میں غیر معمولی کمی اور ایف بی آر میں وسیع اصلاحات کی تجاویز دی گئی ہیں۔ ای پی بی ڈی کا دعویٰ ہے کہ ان اصلاحات پر مکمل عملدرآمد کی صورت میں سال 2031 تک ملکی معاشی شرح نمو 8.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے اور ملکی جی ڈی پی کا حجم 688 ارب ڈالرز ہو سکتا ہے۔ ای پی بی ڈی کی جانب سے پیش کردہ شیڈو بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 35 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے اور ماہانہ 80 ہزار روپے تک کی آمدن پر ٹیکس چھوٹ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ غیر تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح 45 فیصد سے گھٹا کر 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ کاروباری لاگت کم کرنے کے لیے کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ آئندہ تین سالوں کے دوران جنرل سیلز ٹیکس (GST) کو 18 فیصد سے بتدریج کم کر کے 15 فیصد پر لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ شیڈو بجٹ میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسز 5.5 فیصد سے یکدم کم کر کے 0.5 فیصد کرنے اور متنازع ‘7 ای’ کا قانون مکمل ختم کرنے کی وکالت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ملک میں 100 فیصد سرمایہ کاری کرنے والے صنعتکاروں سے ذرائع آمدن (سورس آف انکم) نہ پوچھنے کی اہم تجویز دی گئی ہے، جبکہ سمندر پار پاکستانیوں کو ترسیلاتِ زر بھیجنے اور سرمایہ کاری کرنے پر خصوصی مراعات دینے پر زور دیا گیا ہے۔ ای پی بی ڈی نے تجویز دی ہے کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے اب ریٹیلرز، مرچنٹس اور وینڈرز کو لازمی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے انکم ٹیکس اور کسٹمز کے الگ الگ بورڈز بنانے اور ایک کوالیفائیڈ چیئرمین ایف بی آر کو 3 سال کی متعین مدت کے لیے تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مزید برآں، عدالتوں میں زیرِ التوا 5.7 ٹریلین (57 کھرب) روپے کے ٹیکس مقدمات کو ایک مخصوص وقت میں حل کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔






