امریکا ایران معاہدہ: وزیراعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پربطور ثالث دستخط کردیے

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت اسلام آباد میمورنڈم آف انڈراسٹیڈنگ) پر بطور ثالث دستخط کردیے۔ وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں۔ اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایک بڑی سفارتی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہو گئے ہیں۔ معاہدے پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے جبکہ پاکستان نے ثالث کے طور پر اس کی توثیق کی ہے۔ شہباز شریف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر ہونے والے اس معاہدے نے اس امر کا واضح ثبوت دیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر متفق ہیں۔ مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔ Islamabad :18 June 2026.Prime Minister of Pakistan Muhammad Shehbaz Sharif signed the Islamabad Memorandum of Understanding (Islamabad MoU)، as mediator. The Islamabad MOU has been signed by President of USA Donald J. Trump and Iranian President Masoud Pezeshkian. pic.twitter.com/M0LKK9XoK8 — Prime Minister’s Office (@PakPMO) June 18, 2026 انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھول دے گا جبکہ امریکا اپنی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرے گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان شریک ثالث ریاست قطر کے تعاون سے 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس تاریخی پیش رفت کی یاد میں باضابطہ تقریب کی میزبانی کرے گا جہاں دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز بھی متوقع ہے۔ اس موقع پر شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی سفارت کاری سے وابستگی اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دینے کی پالیسی نے ایک ایسے بحران کا خاتمہ ممکن بنایا جو پورے خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتا تھا۔ وزیر اعظم نے امریکی مذاکراتی ٹیم کے ارکان جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر کی خدمات کو بھی سراہا گیا، جنہوں نے معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ شہباز شریف نے ایرانی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خمینی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی بصیرت، دور اندیشی اور امن کے لیے عزم کو سراہا گیا۔ وزیر اعظم نے اسی طرح ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومینی کی کوششوں کو بھی معاہدے کی کامیابی میں کلیدی قرار دیا گیا۔ بیان میں شہباز شریف نے قطر کی قیادت کی تعمیری شمولیت اور سفارتی تعاون کو خصوصی طور پر سراہا گیا، جبکہ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کے کردار کو بھی ناگزیر اور انتہائی اہم قرار دیا گیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے خصوصی طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی انتھک کاوشیں، بے لوث وابستگی اور پسِ پردہ سفارتی کردار اس پیش رفت کو ممکن بنانے اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں فیصلہ کن ثابت ہوئے۔ شہباز شریف نے اس امید کا اظہار کیا گیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں بہتر باہمی تفہیم، احترام، اعتماد اور مشترکہ خوشحالی کی ایک مضبوط اور دیرپا بنیاد ثابت ہوگی اور مستقبل میں امن و تعاون کے نئے دروازے کھولے گی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے اور دنیا کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔ اپنے ایک پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ فروری 2026 میں شروع ہونے والے تنازع نے خطے کے عوام کو بے پناہ مشکلات سے دوچار کیا اور عالمی توانائی کی ترسیل، تجارت اور معاشی استحکام کو شدید متاثر کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کی المناک صورتِ حال دوبارہ جنم نہیں لے گی اور خطے کے ممالک اپنی توانائیاں ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے وقف کریں گے۔ صدر مملکت نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتھک سفارتی کاوشوں نے فریقین کو معاہدے تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان نے پورے بحران کے دوران اصولی، متوازن اور تعمیری کردار ادا کیا اور مسلسل مذاکرات، تحمل اور تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، صدر مسعود پیزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت کو بھی سراہا اور کہا کہ دونوں فریقین نے تنازع کے سفارتی حل اور امن کے فروغ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ صدر مملکت نے برادر ممالک قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے ساتھ ساتھ روس اور چین کی قیمتی معاونت کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں اور مذاکراتی عمل کی حوصلہ افزائی نے امن کے حصول میں مدد فراہم کی۔ آصف علی زرداری نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور مقررہ مدت کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں تیز کریں تاکہ دیرپا امن اور ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے کہا، “ہیرو وہ ہیں جنہوں نے جنگ کا خاتمہ کیا، نہ کہ وہ جو جنگ شروع کرنے کے خواہشمند ہوں۔”صدر مملکت نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی ثالثی کی نمایاں چھاپ رکھنے والی یہ مفاہمتی یادداشت خطے میں پائیدار اور جامع امن کی بنیاد ثابت ہوگی اور ممالک کو اقتصادی ترقی، توانائی کے شعبے میں تعاون اور اپنے عوام کی فلاح و ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا، “جنگ تباہی اور مصیبت کے سوا کچھ نہیں لاتی۔ امن ہی ترقی کا واحد راستہ ہے۔ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کے ساتھ امن اور خوشحالی کے مشترکہ سفر میں یکجہتی کے ساتھ کھڑا رہے گا۔” قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی اور ایرانی صدور نے یادداشت کے متن پر الیکٹرانک دستخط کیے، جس کے بعد معاہدہ نافذ العمل ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض فیس وصول کی جائے گی۔ ایران کے پاس افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے کا آپشن موجود ہے، تاہم ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا۔ اسماعیل بقائی کے مطابق آئندہ 60 روز کے دوران کسی بھی فریق کو خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے یا نئی پابندیاں عائد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں اور ایران کو فوری طور پر اپنی تیل برآمدات جاری رکھنے کی اجازت ملنی چاہیے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کا پابند ہوگا، جبکہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔ دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کی تصدیق کے تقریباً ایک گھنٹے بعد وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کی دستخط کرتے ہوئے ویڈیو جاری کر دی۔ امریکہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا سرکاری متن بھی جاری کر دیا ہے۔ معاہدے کا عنوان “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” رکھا گیا ہے۔ سی این این ورلڈ کے مطابق امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے 14 نکاتی دستاویز کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، ایران پر عائد بعض مالی پابندیوں میں نرمی اور مستقبل کے تکنیکی مذاکرات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق توقعات کا تعین کیا گیا ہے۔ سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق یہ معاہدہ آبنائے ہرمز کی فوری بحالی، ایران کے جوہری مواد سے متعلق اقدامات اور پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ایران کی اقتصادی صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔