جوہری تنصیبات کو بمباری میں نقصان پہنچا ہے، آئی اے ای اے کو کسی صورت رسائی نہیں دیں گے، باقر قالیباف

ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو ایران کے جوہری تنصیبات تک رسائی دینے والی خبروں کی تردید کردی۔ اپنے بیان میں باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ جن جوہری مراکز کو بمباری میں نقصان پہنچا ہے وہاں تک بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو رسائی دینے کی اطلاعات غلط ہیں۔ ان کا معائنہ کسی بھی حالت میں قابل قبول نہیں ہو گا۔ باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ فی الحال انسپکٹرز کو صرف دو مقامات بوشہر پاور پلانٹ اور تہران ری ایکٹر تک رسائی حاصل ہے۔ واضح رہے چند روز قبل ڈائریکٹر جنرل عالمی جوہری توانائی ایجنسی رافیل گروسی کا کہنا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کا معائنہ آخرکار ضرور کیا جائے گا۔ رافیل گروسی کا کہنا تھا کہ یہ بات اہم نہیں کہ معائنہ دو دن بعد ہو گا، ایک ہفتے میں یا دس دن بعد، لیکن معائنہ بہرحال کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی ادارہ جوہری سرگرمیوں کی نگرانی اور شفافیت کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے کردار جاری رکھے گا۔ دوسری جانب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں بالواسطہ تکنیکی مذاکرات ہوئے۔ دونوں ممالک کے نمائندے بدھ کے روز ہونے والے ان مذاکرات میں شریک ہوئے، تاہم یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی نمائند اسٹیو وٹکوف اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے ان تکنیکی بات چیت میں براہ راست حصہ نہیں لیا۔ مذاکرات کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہو سکتی ہے۔ اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کامیاب ہوں یا ناکام، دونوں صورتوں میں امریکا مضبوط پوزیشن میں ہے۔