ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف نے کہا ہے کہ یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ہم نے پہلے ہی کہا تھا یا اپنے وعدے پورے کریں یا پھر اس کی قیمت چکائیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں باقر قالیباف نے لکھا کہ حقیقت اب دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے۔ قالیباف نے اپنی پوسٹ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے آرٹیکل 5 کی تصویر بھی شیئر کی، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق شق موجود ہے۔ تصویر میں اسلامی جمہوریہ ایران انتظامات کرے گا، کے الفاظ کو نمایاں کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ کشیدگی اور حملوں کا آغاز امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے کنٹرول اور انتظامی امور پر اختلافات کے بعد ہوا۔ اس سے قبل ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کو تا حکم ثانی بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایک بحری جہاز نے غیر منظور شدہ راستے سے گزرنے کی کوشش کی جس پر انتباہی فائرنگ کی گئی. پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ اطلاع تک کسی بھی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر دشمن اس واقعے کو بہانہ بنا کر کسی بھی قسم کی غلطی کرتا ہے تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔ پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور خطے میں موجود نئے فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ڈیل کے تحت اپنے وعدے پورا نہ کیے تو ایرانی حکومت مفاہمتی یادداشت پر عمل ترک کر دے گی۔






