نوجوانوں کے لیے رات کے وقت سوشل میڈیا پر پابندی

برطانیہ میں کم عمر نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے حکومت نے نئے اقدامات تجویز کر دیے ہیں، جن کے تحت 16 اور 17 سال کی عمر کے صارفین کے لیے رات کے اوقات میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ تاہم صارفین کو یہ اختیار بھی دیا جائے… مجوزہ منصوبے کے مطابق انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت مختلف سوشل میڈیا ایپس رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک 16 اور 17 سال کے صارفین کے لیے ڈیفالٹ طور پر غیر فعال رہیں گی۔ اس کے ساتھ حکومت ایسے فیچرز کو بھی بند کرنا چاہتی ہے جو صارفین کو طویل وقت تک آن لائن رکھ سکتے ہیں، جن میں آٹو پلے اور لامحدود اسکرول جیسی خصوصیات شامل ہیں۔ حکومتی مؤقف ہے کہ ان اقدامات سے نوجوانوں کی نیند، توجہ اور خاندانی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔  تاہم اس منصوبے پر تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔ مہم چلانے والی کارکن ایلن روم، جن کا دعویٰ ہے کہ ان کے 14 سالہ بیٹے جولز سوینی کی 2022 میں ایک آن لائن چیلنج کے دوران جان گئی تھی، کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں مؤثر ثابت نہیں ہوں گی کیونکہ نوجوان خود ہی سیٹنگز تبدیل کرکے انہیں غیر فعال کر سکتے ہیں۔ نئے ضوابط کے تحت 18 سال سے کم عمر صارفین کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی چیٹ بوٹس استعمال کرتے وقت لازمی وقفے کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے۔ برطانوی حکومت رواں برس کے اختتام تک ان تجاویز کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ منصوبہ ہے کہ یہ قوانین اگلے سال موسم بہار میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے پہلے سے مجوزہ پابندیوں کے ساتھ نافذ کیے جائیں۔  ایلن روم نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ٹوڈے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صرف ایسا فیچر متعارف کرانا جسے باآسانی بند کیا جا سکے، کافی نہیں۔ ان کے مطابق یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی 17 سالہ نوجوان کو شراب کی بوتل دے کر صرف تھوڑا سا دور رکھ دیا جائے، کیونکہ وہ آسانی سے اسے دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو نوجوانوں کے تحفظ کے لیے مزید سخت اور مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔ یہ تازہ تجاویز جون میں کیے گئے اس حکومتی اعلان کے بعد سامنے آئی ہیں، جس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کے منصوبے کا عندیہ دیا گیا تھا۔