کینیڈا کی وزیر خارجہ نے وزیراعظم، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری، زراعت میں تعاون پر اتفاق کیا گیا، ملاقاتوں میں انسداد دہشت گردی، افغانستان سے دراندازی، کشمیر کی صورتحال اور سندھ طاس معاہدے پر گفتگو ہوئی۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند آج اسلام آباد پہنچیں اور نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ کی شعبہ جات میں مشترکہ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ ایکسپریسنیوز ملاقات کے بعد دونوں نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ کینیڈا کی وزیرِ خارجہ کا یہ دورہ پاکستان اور کینیڈا کے مابین دیرینہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت کی علامت ہے، یہ دورہ دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے ہمارے مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات تاریخی روابط، عوامی سطح پر مضبوط روابط اور کینیڈا میں آباد متحرک پاکستانی برادری کی بنیاد پر استوار ہیں، آج کی ملاقات میں ہم نے دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و بین الاقوامی امور پر مفصل تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں ںے کہا کہ دونوں فریقین نے اعلیٰ سطح روابط کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے، ادارہ جاتی تعاون کو مزید مستحکم بنانے، باقاعدہ دوطرفہ مشاورت کو فروغ دینے اور متعلقہ وزارتوں و اداروں کے درمیان روابط کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اقتصادی تعاون ہمارے دوطرفہ تعلقات کا ایک بنیادی ستون ہے، اس تناظر میں ہم نے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری برادریوں کے مابین روابط کو آسان بنانے اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا، پاکستان تعلیم، توانائی، کان کنی و اہم معدنیات، زراعت، بنیادی ڈھانچے اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی سمیت ترجیحی شعبوں میں کینیڈا کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ زرعی تعاون کے ضمن میں آج ہم ایک نئے ضابطۂ کار پر دستخط کریں گے، جس کے ذریعے کینیڈا سے کینولا کی درآمد کے لیے نباتاتی حفظانِ صحت سے متعلق واضح اور قابلِ پیش بینی شرائط وضع کی جائیں گی، اس کے ساتھ ساتھ، دونوں ممالک کے متعلقہ ادارے زرعی شعبے میں فنی تعاون اور استعدادِ کار میں اضافے کے امکانات کا بھی مشترکہ جائزہ لیں گے، ہم نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ و تحفظ سے متعلق معاہدے پر جاری پیش رفت کا جائزہ لیا اور اس امر پر اتفاق کیا کہ اسے باہمی مفاد کے مطابق جلد از جلد حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات اور رابطے جاری رکھے جائیں گے۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ ملاقات میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے کردار پر بھی تبادلۂ خیال ہوا، جو سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کاری کا ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے، ہم نے کینیڈا کی کمپنیوں کو پاکستان میں دستیاب سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے کی دعوت دی، ہماری گفتگو میں تعلیم، افرادی قوت کی نقل و حرکت، قونصلر تعاون، سائنس و ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی روابط کے فروغ سمیت متعدد شعبے شامل تھے۔ دونوں ممالک نے ان شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم نے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت، بشمول افغانستان کی صورتحال اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں تعاون، پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے تنازع کا معاملہ بھی اٹھایا، جو دنیا کے دیرینہ حل طلب بین الاقوامی تنازعات میں سے ایک ہے اور 1948 سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے (IWT) کو معطل رکھنے کے اعلان کے ذریعے پہلے ہی سے کشیدہ سلامتی کی صورتحال میں ایک نئی اور تشویش ناک جہت کا اضافہ کیا ہے، ہم اپنے دوست ممالک سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی فوری بحالی، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خاتمے، اور بین الاقوامی قانون و معاہداتی ذمہ داریوں کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے اپنی حمایت فراہم کریں گے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آج ہم نے ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا ہے، جس میں ہماری ملاقات کے اہم نتائج اور مشترکہ ترجیحات کا احاطہ کیا گیا ہے، یہ اعلامیہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، کینیڈا کے ساتھ اپنے تعمیری تعلقات کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور امن، استحکام و خوشحالی کے مشترکہ وژن کی بنیاد پر ان تعلقات کو مزید مضبوط اور ہمہ گیر بنانے کا خواہاں ہے۔ وزیراعظم ہاؤس آمد، شہباز شریف سے ملاقات وزیراعظم شہباز شریف سے کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، مشیر وزیراعظم ڈاکٹر توقیر شاہ اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے کینیڈین وزیر خارجہ کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کے مابین دوستانہ تعلقات قائم ہیں جنہیں خاص طور پر تجارت، سرمایہ کاری، زراعت بشمول ایگری فوڈز اور ویکسین کی تیاری، قابل تجدید توانائی، آٹو موبائل اور آٹو پارٹس کی صنعت کے شعبوں میں مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے لیے اپنے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ وہ ان سے جلد ملاقات کے منتظر ہیں۔ انہوں نے اپریل میں اپنے کینیڈین ہم منصب کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کو یاد کیا اور خطے میں امن کی کوششوں کے لیے پاکستان کی حمایت کرنے پر کینیڈا کا شکریہ ادا کیا۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے اسلام آباد میں اپنے اور اپنے وفد کے گرم جوش استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کے لیے کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی کا خیرسگالی کا پیغام پہنچایا اور بتایا کہ ان کا یہ دورہ اپنے وزیر اعظم کی ہدایت پر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کے لیے ہے۔ دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے، کینیڈین وزیر خارجہ نے زراعت، معدنیات، توانائی کے علاوہ آٹو اور آٹو پارٹس کی صنعت کے شعبوں میں تجارت اور تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کی اپنی حکومت کی دلی خواہش کا اظہار کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ فارن انویسٹمنٹ پروموشن اینڈ پروٹیکشن ایگریمنٹ پاکستان میں کینیڈین سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے اہم ثابت ہوگا۔ دونوں رہنماوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ کینیڈا میں مقیم پاکستانی برادری دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ دونوں رہنماوں نے تجارت اور معدنیات کے شعبوں میں وفود کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا تاکہ باہمی فائدے کے مواقع تلاش کیے جا سکیں اور دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کے امکانات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ ملاقات کے بعد وزیر اعظم نے کینیڈا سے پاکستان کو کینولا (Canola) کی درآمد کے حوالے سے “فائٹو سینیٹری ضوابط” (Phyto-sanitary regulations) کے پروٹوکول پر دستخط کی تقریب کا مشاہدہ کیا۔ اس پروٹوکول پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے دستخط کیے۔ کینیڈین وزیر خارجہ کی وزارت داخلہ آمد کینیڈا کی وزیر خارجہ وزارت داخلہ بھی گئیں جہاں وزیرداخلہ محسن نقوی سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، کینیڈین ہائی کمشنر، ڈی جی ایف آئی اے، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات میں پاک کینیڈا تعلقات، تجارت، سیکیورٹی اور باہمی روابط بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں غیرقانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ، سائبر کرائمز کی روک تھام کے لیے اشتراک کار پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں کے درمیان قانون نافذ کرنے اداروں کے افسران کی ٹریننگ و ایکسچینج پروگرام پر تبادلہ خیال ہوا، دونوں وزراء کا دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایم او یو پر جلد دستخط کرنے پر اتفاق ہوا۔ ملاقات میں خطے کی تازہ ترین صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کینیڈا کے ساتھ تعلقات کو تمام شعبوں میں فروغ دینا چاہتا ہے، پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کی ترقی میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ کینیڈا کے ساتھ مشترکہ مفادات کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے کے معاہدے سے دوطرفہ تعلقات کو فروغ ملے گا۔ کینیڈین وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں، دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں، باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے فریم ورک مرتب کیا جانا چاہیے۔






