صدر عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری مسترد کر دی

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی اسمبلی اجلاس طلب کرنے کی سمری مسترد کر کے واپس بھیج دی۔ صدر مملکت نے کہا کہ پہلے مخصوص نشستوں پر فیصلہ کریں پھر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے۔ ذرائع کے مطابق صدر کا کہنا تھا کہ ایوان ابھی مکمل نہیں، کچھ مخصوص نشستوں کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ نگراں وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ 29 فروری کو ہونے والا اجلاس آئین کے عین مطابق ہو گا۔ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے سمری صدر مملک عارف علوی کو ارسال کی تھی۔ آئین پابند کرتا ہے کہ انتخابات کے 21 دن کے اندر اجلاس لازمی بلایا جائے اور آئین کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو لازمی بلا نا پڑے گا۔ اگر 29 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا تو اسی دن حلف کے بعد نئے اسپیکر کا شیڈول جاری کیا جائے گا پھر یکم مارچ کو اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کروائے جائیں گے اور دو مارچ کو اسپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب ہوگا جس کے بعد اسی دن ڈپٹی اسپیکر کا بھی چناؤ کر لیا جائے گا۔ اسی طرح، تین مارچ کو وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا عمل ہوگا، 4 مارچ کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم کا الیکشن کرایا جائے گا اور 9 مارچ کو صدر کا انتخاب الیکشن کمیشن آف پاکستان کرائے گا۔