وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آڈیو لیکس کی سیاست نامناسب ہے، دوغلی پالیسی نہیں چلے گی۔
چئیرمین پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خان صاحب کو پہلے انسان اور پھر سیاستدان بننا چاہیے، ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوبا ہوا ہے اور عمران خان لانگ مارچ کی کال دے رہے ہیں۔
جرمن میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آڈیو لیکس کی سیاست نامناسب ہے، دوغلی پالیسی نہیں چلے گی، مخالف کے ساتھ ہو تو اچھا آپ کے ساتھ ہو تو برا۔ نیب چئیرمین کو قابو کرنے اور مخالفین پر دباؤ بڑھانے کیلئے آڈیو لیکس کرائیں۔
سابق وزیراعظم سے متعلق گفتگو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ خان صاحب کی سیاست بہت عجیب ہے، ملک ڈوبا ہوا ہے اور وہ مارچ کی کال دے رہے ہیں، خان صاحب کو پہلے انسان اور پھر سیاستدان بننا چاہیے۔ سیاست تو چلتی رہے گی۔
اس موقع پر انہوں نے جرمنی کی جانب سے سیلاب زدگان کیلئے دی جانے والی امداد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ امداد توقعات سے زیادہ ہے، ہم جرمنی کے شکرگزار ہیں۔ بلاول نے یہ بھی کہا کہ یہ چیریٹی یا بھیک مانگنے کی بات نہیں، ہم انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وہ ممالک جنھوں نے سب سے زیادہ مسئلہ کھڑا کرنے میں کردار ادا کیا ان کی مورل ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
واضح رہے کہ گزشتہ روز جمعہ 7 اکتوبر کو پاکستانی ہم منصب کے ہمراہ مشترکا پریس کانفرنس سے خطاب میں جرمن وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے، پاکستان میں سیلاب سے جو تباہی ہوئی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے، سیلابی پانی سے پیدا ہونیوالے مچھر ملیریا کا سبب بن رہے ہیں۔
انہوں نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے ایک کروڑ یورو امداد کا اعلان کردیا۔ انالینا بیئربوک نے کہا کہ جرمن کمپنیاں پاکستان میں انفرا اسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری کررہی ہیں، پاکستان ہمارا اہم ترین تجارتی شراکت دار ہے، جرمنی پاکستان کیساتھ دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے کا خواہاں ہے۔
اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جرمنی یورپ کا اہم ترین ملک ہے، ہمارے بہترین تعلقات ہیں، جرمنی کیساتھ دوستانہ تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان سیلاب کے باعث مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہوا، پاکستان کو سیلاب کے بعد غذائی بحران کا بھی سامنا ہے، کروڑوں لوگ سیلاب سے ہونیوالی تباہی سے متاثر ہوئے۔






