محصولات کی پیداوار میں صحت مند رفتار کے باوجود آئی ایم ایف نے پاکستان سے تقریباً 600 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے اور انسداد بدعنوانی ٹاسک فورس قائم کرنے پر پھر زور دیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ مطالبات پاکستان میں فنڈ کے مشن چیف ناتھن پورٹر نے واشنگٹن میں حالیہ بات چیت کے دوران نصف درجن دیگر شرائط کے ساتھ پاکستانی حکام کے سامنے رکھے تھے۔
آئی ایم ایف کا خیال ہے رواں مالی سال میں افراط زر کی وجہ سے معیشت کی قریباً 25 فیصد برائے نام نمو کے باعث ٹیکس سے مجموعی ملکی پیداوار(جی ڈی پی ) کا تناسب طے شدہ سطح سے نیچے آجائے گا چاہے ایف بی آر اپنا سالانہ ہدف 7.470 کھرب روپے حاصل کر لے۔
حکومت نے بجٹ کے وقت 11.5 فیصد کی اوسط افراط زر کی شرح اور 5 فیصد کی اقتصادی ترقی کی شرح کی بنیاد پر جی ڈی پی کے حجم کا تخمینہ 78 کھرب روپے لگایا تھا۔
7.470 کھرب روپے کا سالانہ ٹیکس ہدف جی ڈی پی کے قریباً 9.6 فیصد کے برابر ہے تاہم مختلف انتظامی اقدامات، روپے کی قدر میں کمی، سیلاب اور خوراک کی فراہمی کے جھٹکوں کی وجہ سے اوسطا مہنگائی کا تخمینہ اب 23 فیصد اور جی ڈی پی کی شرح نمو قریباً 2 فیصد ہے۔
مہنگائی میں اضافے کے بعد، رواں مالی سال کیلئے جی ڈی پی کا تخمینہ 83 کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ یہ ایف بی آر کے 7.470 کھرب روپے کے سالانہ ہدف کو پہنچنے کے باوجود ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب قریباً 8.9 فیصد تک لے آئے گا۔






