وزیراعظم شہباز شریف یکم نومبر کو چینی ہم منصب لی کی کیانگ کی دعوت پر چین کا اپنا پہلا سرکاری دورہ کریں گے۔
دفترخارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ چین کے وزیراعظم لی کی کیانگ کی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف کا چین کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف رواں برس اپریل میں وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ چین کا دورہ کریں گے۔
دفترخارجہ نے بتایا کہ دورہ چین میں وزیراعظم کے ہمراہ وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری سمیت اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہوگا۔
وزیراعظم اپنے پہلے سرکاری دورے میں چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے اور اپنے ہم منصب کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے۔
دفترخارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم دنیا کے ان پہلے رہنماؤں میں سے ایک ہوں گے جو چین کی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخی 20 ویں قومی کانگریس کے بعد دورہ کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ‘وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ چین اور پاکستان کی قیادت کی سطح پر معمول دوروں کی عکاسی کرتا ہے’۔
وزیراعظم شہباز شریف اس سے قبل رواں ہفتے ہی سعودی عرب کا دو روزہ دورہ کر چکے ہیں جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔
سعودی عرب کے دو روزہ دورے میں وزیراعظم نے سعودی فیوچر انوسٹمنٹ انیشیٹیو سمٹ میں شرکت کی تھی اور خطاب میں سعودی عرب سمیت دنیا کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی تھی۔
وزیراعظم نے توانائی کے شعبے میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کرتے ہوئے زور دیا تھا کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے 16 ستمبر کو ازبکستان کے شہر سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 22ویں سربراہی اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی تھی۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں اس ملاقات کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو ‘عملیت پسند اور باصلاحیت شخصیت’ اور ‘پاک-چین دوستی کے لیے دیرینہ عزم’ رکھنے والے رہنما قرار دیا۔
وزیر اعظم آفس کے بیان میں بتایا گیا تھا کہ شہباز شریف نے صدر شی جن پنگ کے منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) اور گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (جی ڈی آئی) کی تعریف کی اور اس منصوبے کو پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ کاوش اور ہر صورت میں کامیاب نتیجے کا حامل قرار دیا۔
وزیراعظم نے بھارت کے زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورت حال سے آگاہ کیا اور مسئلہ مقبوضہ خطے پر چین کے اصولی مؤقف پر ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔






