مجھے 4 گولیاں لگی ہیں، مارنے کی کوشش کی گئی: عمران خان

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد پہلے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ مجھے 4 گولیاں لگی ہیں، مارنے کی کوشش کی گئی، عمران خان نے پریس کانفرنس کے شروع میں اپنی ایکسرے رپورٹس اسکرین پر دکھائیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے انڈر میری پارٹی نہیں بنی، میں نے 22 سال جدوجہد کی اور عوام میں واپس گیا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم عدالت میں گئے، عدالت نے 8 مرتبہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ ریورس کیا، وہ پارٹی جو عوام سے پیسہ اکھٹا کرتی ہے اس بند کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ انہوں نے سلمان تاثیر کی طرح قتل کی سازش کی، عمران نے دین کی توہین کی ہے، اس کے بعد پلان یہ تھا کہ دینی انتہا پسند عمران خان کو قتل کردیا، یہ پلان تھا جو کہ میں نے 24 ستمبر کو جلسے میں بتایا۔
انہوں نے کہا کہ جلسوں کے بعد لانگ مارچ کا فیصلہ کیا، ملکی تاریخ میں اتنی عوام پہلے نہیں نکلی، یہ اس سے خوفزدہ تھے، 3 لوگوں نے منصوبہ بنایا، ایک دن پہلے دیکھا کہ کراؤڈ بڑھتا جا رہا ہے تو انہوں نے مارنے کا منصوبہ بنایا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت کبھی تحریک عدم اعتماد میں ناکام نہیں ہوتی، وسائل ہوتے ہیں، میرے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے ارکان کی منڈی لگی تھی، ہم زیادہ پیسے دے سکتے ہیں لیکن ہم نے فیصلہ کیا ہم ایسا نہیں کریں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 17 جولائی کے ضمنی الیکشن میں حکومتی مشینری استعمال کی گئی جبکہ الیکشن کمیشن نے ای وی ایم کو روکا۔
عمران خان نے کہا کہ نظر آرہا ہے کہ قوم اس حکومت کو مسترد کرچکی ہے، توشہ خانہ کا سارا ریکارڈ توشہ خانہ میں موجود ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما دنیا کے سب سے مہنگے ترین اپارٹمنٹس میں رہ رہے ہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کہاں سے خریدے گئے، آج تک انہوں نے ایک ڈاکومنٹ جمع نہیں کرایا، کیا ان کے لیے لانگ مارچ جائزہے؟ ہمارے لیے نہیں؟
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن کمشن کو ہمیں نااہل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، ان سب کے باوجود پی ٹی آئی جیت گئی۔