وزیرمملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان تیل خریدنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔
وفاقی وزیر مصدق ملک نے پاکستانی قوم کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی روس سے لینڈ مارک ڈیل طے پاگئی ہے، اور روس ہمیں 30 فیصد زیادہ رعایت پر تیل فراہم کرے گا۔
وزیرمملکت برائے پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ جنوری میں روس کے وزیرتوانائی پاکستان آئیں گے، اور فروری یا مارچ میں پاکستان روسی تیل کی پہلی شپمنٹ خرید چکا ہوگا، تفصیلات طے کرنے کیلئے وزارت میں سیل بنا دیا ہے۔
وفاقی وزیر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ تیل کی خریداری کے بعد ملک میں مہنگائی بھی کم ہوگی، اور عوام کو ریلیف ملے گا۔
وفاقی وزیر نے عمران خان کے روس سے سستا تیل لینے کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے جو دعویٰ کیا تھا اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
وزیر مملکت مصدق ملک نومبر کے آخر میں روس گئے تھے، اور انہوں نے 5 دسمبر کو اعلان کیا تھا کہ روس نے پاکستان کو خام اور قابل استعمال تیل رعایتی قیمت پر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
مصدق ملک نے کہا تھا کہ روس سے تیل کی خریداری سے متعلق معاملات طے ہونا باقی ہیں ، امید ہے آئندہ ماہ معاہدہ طے پانے کے بعد تیل کی فوری فراہمی شروع ہوجائے گی۔
روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر امریکا کا ردعمل
امریکی نشریاتی ادارے ’’وائس آف امریکا ’‘ کے مطابق پاکستان کے روس سے رعایتی نرخوں پر تیل خریدنے کے اعلان پر امریکا کے محکمہ خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ انہیں اس حوالے سے علم ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ ہمیں اس دباؤ کا احساس ہے جس کا سامنا دنیا بھر حکومتیں ایندھن کی خریداری کے لئے کررہی ہیں۔ ہم اس بارے میں بہت واضح ہیں کہ ہر ملک کو اپنے حالات کے مطابق توانائی کے ذرائع کی درآمدات کے بارے میں اپنی مرضی سے راستہ اختیار کرنا ہے۔
امریکا کی جانب سے مزید کہا گیا کہ یوکرین اور یورپ میں روس کے اقدامات نے واضح طور پر یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ توانائی کا قابل بھروسہ برآمد کنندہ نہیں، ہم روس پر طویل مدتی انحصار کو کم کرنے کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔






