سینٹ میں آج متفقہ طور پر ایک قرار داد میں حکومت سے ربا کے خاتمے اور ملک میں سود سے پاک مالیاتی و معاشی نظام کے قیام کی غرض سے عملی لائحہ عمل وضع کرنے کیلئے وزارت خزانہ کے انتظامی کنٹرول کے تحت مستقل ڈویژن اور ماتحت ٹاسک فورس قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قرار داد میں کہا گیا کہ حکومت کو ملک میں کاروبار کی بنیاد پر انفرادی اور اجتماعی سود یار با کی ممانعت کیلئے قوانین نافذ کرنے چاہئیں۔ قرار داد کے مطابق مختلف مالیاتی اداروں سے سودیا رباکا خاتمہ کیا جانا چاہئے۔
قرار داد پر اظہار خیال کرتے ہوئے خزانہ کی وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ مالیاتی نظام کو ربا سے پاک بنانا حکومت کی ترجیح ہے اس مقصد کیلئے لائحہ عمل کی تیاری کیلئے ایک ٹاسک فورس پہلے ہی قائم کر دی گئی ہے۔
ایوان میں منظور کی گئی ایک اور قرار داد منظور کی گئی جس میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ جدت، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعلیم کیلئے صنفی امتیاز سے پاک ماحول فراہم کرنے کے لئے قومی لائحہ عمل تیار اور اس پر عملدرآمد کرے۔
سیمی ایزدی اور دوسرے ارکان کی طرف سے پیش کی گئی قرار داد میں حکومت سے کہا گیا کہ وہ انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے مضامین میں ترجیحی تعلیم کے ذریعے خواتین اورلڑکیوں کو ڈیجیٹل مہارتوںسے لیس کرے اور خواتین کو ڈیجیٹل با اختیار بنانے کے منصوبوں میں سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے ذریعے علیحدہ سے رقوم مختص کرے۔






