وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ ملک میں انتخابات ایک ہی بار ہونے چاہئیں، بار بار الیکشن سے انتشار ہوگا، پورے ملک کے بجائے صرف دو صوبوں میں الیکشن ملک کو انارکی کی طرف دھکیلے گا۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں عدالت عظمیٰ آج ایک ایسا فیصلہ سنایے گی کہ ملک سیاسی بحران سے نکلے اور آگے بڑھے تین رکنی بینچ جس کے بارے میں وزیراعظم اور وزیر قانون نے پارلیمنٹ میں اپنا موقف واضح رکھا اور آج بھی ہمارا وہی موقف ہے بہتری کی امید رکھتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا ہمارا مطالبہ ہے کہ فل کورٹ بنایا جائے تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ ہونے چاہیے، اس معاملے پر سپریم کورٹ کے اندر ججز کی آواز اٹھی ہے ہمیں امید ہے عدالت عظمیٰ کوئی بہتر فیصلہ دے گی جس سے موجودہ بحران ختم ہو گا، ہر فیصلے میں یہی تین ججز ہی کیوں اس پر سوال اٹھ رہے ہیں، ہمارے لیے ججز قابل احترام ہیں، فیصلے کے بعد کسی بھی قسم کے بحران کےذمہ دار ہم نہیں ہوں گے۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ سیاسی بحران فتنے کی وجہ سے ہے جو عمران خان ہے مسائل کی بنیادی وجہ عمران نیازی کی چار سال کی پالیسیاں ہیں، کبھی لانگ مارچ،کبھی احتجاج،کبھی اسلام آباد کا گھیراؤ کیاگیا۔
اس موقی وزیر قانوں اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے کہنا تھا کہ ہم جمہوریت کو ماننے والے ہیں، ہم نے خود قربانیاں دیں، بینچ تمام صوبوں کے ججز کا ہونا چاہیے، جمہوریت ہی ملک کے مسائل کا حل ہے، سپریم کورٹ اس مسئلے کا حل نکالے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم پور ی طاقت کے ساتھ کھڑے ہیں، تمام ادارے اپنا آئینی حق ادا کریں، 15 رکنی عدالت میں 3 رکنی بینچ کا فیصلہ بڑا سوالیہ نشان ہوگا، بینچ تمام صوبوں کے ججز کا ہونا چاہیے۔






