عمران خان نے اپنے وکلا کے ذریعے نیب کو 20 نکات پر مشتمل جواب اور دستاویزات فراہم کردیں۔ انکا کہنا تھا کہ میں اس وقت لاہور میں موجود ہوں زاتی طور پر حاضری دینے سے قاصر ہوں۔
عمران خان نے جواب میں لکھا کہ نیب کی طرف سے لگائے گئے تمام الزاماتی نوٹس غلط، غیر سنجیدہ اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق کیس میں کوئی کرپٹ پریکٹسز کا ذکر نہیں۔ انکوائری کو انویسٹگیشن میں تبدیل کرنے کا مقصد مجھے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا ہے۔ الزامات کے حوالے سے انکوائری رپورٹ تاحال مجھے نہیں دی گئی۔
اتحوں نے لکھا کہ انکوائری کے وقت صرف طلبی کا نوٹس موصول ہوا ہے۔ طلبی نوٹس میں انکوائری میں لگائے گئے الزامات کی تفصیلات شامل نہیں،نیب قانون کے مطابق انکوائری کے وقت ملزم کو دفاع کیلئے تفصیلات دینا ضروری ہیں۔ اسلئیے میری رہائش گاہ پر قانونی ٹیم کو انکوائری رپورٹ فراہم کی جائے۔
عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں نیب نوٹس کا جواب جمع کرا دیاعمران خان نے اپنے وکلا کے ذریعے نیب کو 20 نکات پر مشتمل جواب اور دستاویزات فراہم کردیمیں اس وقت لاہور میں موجود ہوں زاتی طور پر حاضری دینے سے قاصر ہوں، عمران خان کا جواب نیب کی طرف سے لگائے گئے تمام الزاماتی نوٹس… pic.twitter.com/QbSQ8b09F2
— PTI (@PTIofficial) May 18, 2023
انکا مزید کہنا تھا کہ نیب کی جانب سے مانگے گئے دستاویزات میرے پاس موجود نہیں، نیب کی طرف سے تفتیش کا آغاز قانون کے منافی اور سیاسی انتقام کا حصہ ہے۔ نیب کے گزشتہ نوٹس کے تفصیلی جواب میں بھی اپنے تحفظات سے آگاہ کر چکا ہوں۔
مزید پڑھیں: 190 ملین پاونڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی طلبی کے باوجود نیب میں پیش نہیں ہوئے
واضح رہے کہ نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ سے موصول 190 ملین پاؤنڈ کے کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو آج صبح 10 بجے نیب راولپنڈی میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی، عمران خان اوران کی اہلیہ بشریٰ بی بی نیب میں پیش نہیں ہوئے۔






