وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے جب ہماری حکومت آئی تو جی ڈی پی چھ فیصد تھی دوسرے سال منفی میں چلی گئی تھی تجارتی خسارہ 39.1 ارب ڈالر ہوگیا تھا، کرنٹ اکاونٹ خسارہ چار فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ رینویو کا سب سے بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور سود پر جارہا ہے بیرونی معاہدے سے انحراف کرکے… اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا پچھلا مالی سال بہت مشکل سال تھا، اقتصادی سروے کی اشاعت وزارت خزانہ کی ذمہ داری ہوتی ہے، 2017میں پاکستان کی معیشت دنیا کی 24ویں معیشت بن چکی تھی اور 2022میں پاکستان کی معیشت بدقسمتی سے دنیا کی 47ویں معیشت بن گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم جو ایریاز کور کریں گے ان میں زراعت، کیپٹل مارکیٹ، صحت، تعلیم اور مواصلات سب شامل ہیں، ہم نے فائیو ایز (ایکسپورٹ، ایکوئٹی، انرجی، امپاورمنٹ اور انوائرمنٹ) کو ترجیح دی ہے، حکومت کی ترجیح ہے کہ میکرو اکنامک ترقی کے ساتھ ساتھ چلیں۔ ان کا کہنا تھا تھری ایز کے بعد اب فائیو ایز پالیسی پر آئندہ کا روڈ میپ بنایا ہے، میکرو اکنامک استحکام کی بحالی کے انڈیکیٹرز اقتصادی سروے میں شامل ہیں، میکرو اکنامک استحکام کو بحال کرنا حکومت کا مقصد ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا جہاں 2017 میں ملک پہنچ چکا تھا وہیں دوبارہ لے جانا چاہتے ہیں، حکومت مجموعی گروتھ کے راستے پر چلنا چاہتی ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کر لیا ہے جس میں وفاقی بجٹ کی منظوری دی جائے گی، وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔






