وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ سمندری طوفان بپرجوائے حقیقت ہے، اب تک کے موسمیاتی ماڈلز کے مطابق پاکستان میں طوفان سے کیٹی بندر، ٹھٹھہ اور عمر کوٹ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا ہے کہ لوگوں کیلئے ضروری ہے کہ گھبرائے بغیر ساحلی علاقوں کے لیے پی ڈی ایم اے سندھ اور پی ڈی ایم اے بلوچستان کی ایڈوائزری پر سنجیدگی سے عمل کریں، اب تک طوفان کی بلوچستان کی جانب شدت میں معمولی کمی آئی ہے لیکن سمندری طوفان بہت غیر متوقع ہوتے ہیں۔ شیری رحمان نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ برائے مہربانی حکومت کے مشوروں پر عمل اور متعلقہ مقامی اداروں سے تعاون کریں، اس کی شدت میں فرق ضرور آیا ہے لیکن احتیاط بہت ضروری ہے، خاص طور پر سندھ کے ساحل کے قریب علاقوں میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ کراچی میں ہواؤں کے پیمانے اور شدت کے پیش نظر شہری سیلاب کا امکان ہے، ہم کیٹی بندر، ٹھٹھہ، بدین، کراچی ساحل سمندر، عمر کوٹ اور دیگر علاقوں سے لوگوں کا انخلاء کر رہے ہیں، اب تک 43 رلیف کیمپز قائم کی گئی ہیں، اب تک 40 ہزار سے زائد لوگوں کا انخلاء کیا گیا ہے، طوفان کے رجحان اور شدت کے بارے میں آپ کو مزید آگاہ کرتے رہیں گے۔






