پنجاب حکومت نے صحت کارڈ کو صرف غریب عوام کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ محکمہ صحت نے سہولت کارڈ پر بچوں کی ڈلیوریز بند کرنے کی تجویز بھی بھجوا دی اور محکمہ صحت پنجاب نے صوبائی حکومت کو صحت سہولت کارڈ کی ترمیمی پالیسی 30 جون سے نافذ کرنے کی سفارش کی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت اب بچوں کی نارمل اور سی سیکشن ڈلیوری صحت کارڈ پر نہیں ہوگی۔ صحت کارڈ پر ڈلیوری کیسز سرکاری اسپتالوں میں منتقل کیے جائیں گے۔ محکمہ صحت پنجاب نے صحت کارڈ پالیسی میں ترامیم پر سفارشات نگراں حکومت کو پیش کردیں۔ محکمہ صحت پنجاب نے صوبائی حکومت کو صحت سہولت کارڈ کی ترمیمی پالیسی 30 جون سے نافذ کرنے کی سفارش کی ہے۔ تجویز دی گئی ہے کہ دل کے مریضوں کا پرائیوٹ اسپتال میں مکمل علاج صحت کارڈ پر نہیں ہوگا۔ پرائیوٹ اسپتالوں میں دل کے مریضوں کے علاج پر بھی 30 سے 40 فیصد ادائیگی مریض کو جیب سے کرنا ہوگی۔ صحت کارڈ پر100 فيصد مفت علاج کی سہولت صرف کم آمدن والے افراد کو ہی ميسر ہوگی۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے دور میں پنجاب بھر میں کارڈ کی سہولت فراہم کی تھی اور سب اس سہولت سے مستفید ہو رہے تھے۔






