دماغ کو ہمیشہ صحت مند رکھنے کیلئے مددگار آسان عادات

دماغ انسانی جسم میں کنٹرول سینٹر کی حیثیت رکھتا ہے جو دل کی دھڑکن جاری رکھتا ہے، پھیپھڑوں کو سانس لینے اور ہمیں چلنے، پھرنے، سوچنے اور محسوس کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جسم چاہے جتنا بھی مضبوط ہو اگر دماغی طور پر کمزور ہو تو دنیا میں آگے بڑھنے یا روشن مستقبل کا تصور تک ممکن نہیں مگر ذہنی صلاحیت کو عروج پر پہنچانے کے لیے کوئی جادوئی گولی تو دستیاب نہیں تاہم کچھ عام چیزیں ضرور یہ کمال کرسکتی ہیں۔ مگر عمر کے ساتھ ہر فرد کے دماغ میں تبدیلیاں آتی ہیں اور ذہنی افعال بھی تبدیل ہوتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ تنزلی کا شکار ہونے لگتا ہے اور اس کا نتیجہ بڑھاپے میں الزائمر اور ڈیمینشیا جیسے امراض کی شکل میں بھی نکل سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق چند آسان عادات کو اپنانے سے دماغ کو ہر عمر میں صحت مند رکھنا ممکن ہو سکتا ہے۔ متوازن غذااپنے دماغ کو ہر عمر میں جوان رکھنے کے لیے ایسی غذاؤں کا انتخاب کریں جو دل کے لیے مفید ہونے کے ساتھ توند سے تحفظ کریں۔ درمیانی عمر میں موٹاپا آنے والے برسوں میں دماغی تنزلی کا باعث بننے والے مرض ڈیمینشیا کا خطرہ دوگنا بڑھاتا ہے۔ ہائی کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر سے بھی یہ خطرہ بڑھتا ہے تو اس سے تحفظ کے لیے تلی ہوئی غذاؤں سے گریز کریں، پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال، مچھلی کھائیں اور صحت بخش چکنائی جیسے گریاں، بیج اور زیتون کو ترجیح دیں۔ جسمانی ورزشورزشیں خاص طور پر ایسی جسمانی سرگرمیاں جو دل کی دھڑکن کی رفتار تیز کریں، جیسے تیز چہل قدمی یا تیراکی، ذہن کے لیے بھی فائدہ مند ہوتی ہیں۔ ماہرین اس حوالے سے واضح طور پر تو کچھ کہہ نہیں سکتے کہ ایسا کیوں ہتا ہے، مگر جسمانی سرگرمیوں سے دماغ کے لیے خون کی فراہمی بڑھتی ہے اور دماغی خلیات کے درمیان تعلق بہتر ہوتا ہے۔ جسمانی طور پر متحرک رہنا یادداشت، تخیل اور منصوبہ سازی جیسی صلاحیتوں کے لیے بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ نیند کا خیال رکھیںہر رات 6 سے 8 گھنٹے کی اچھی نیند دماغی صحت کے لیے بہترین چیزوں میں سے ایک ثابت ہوتی ہے۔ نیند سے دماغ کو نئی تفصیلات کا تجزیہ کرنے میں مدد ملتی ہے، یادیں تشکیل پاتی ہیں، نئے تصورات یا خیالات ذہن میں ابھرتے ہیں جبکہ الزائمر کا خطرہ بڑھانے والے پروٹین کا اجتماع نہیں ہوتا۔ نیند سے دماغی لچک بھی بڑھتی ہے اور اس کے لیے نئی چیزوں سے مطابقت پیدا کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ دل کو متحرک کریںماہرین نے بتایا کہ روزانہ ورزش کرنا دماغ کو صحت مند رکھتا ہے۔ جسمانی سرگرمیوں سے دماغ کے لیے خون کا بہاؤ بڑھتا ہے اور اس کے لیے مضبوط دل کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ دماغ کو درکار خون مسلسل فراہم کر سکے۔ تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ ورزش کرنے کے عادی افراد میں الزائمر امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ عمر بڑھنے کے باوجود دماغی تنزلی کا سامنا نہیں ہوتا۔ ماہرین نے بتایا کہ جس حد تک ممکن ہو جسم کو متحرک رکھیں کیونکہ کچھ نہ کرنے سے تھوڑی ورزش کرنا بہتر ہوتا ہے۔ دوستوں کے ساتھ وقت گزاریںتنہائی دماغی صحت کو نقصان پہنچا سکتی ہے تو یہ ضروری ہے کہ دیگر افراد سے میل جول برقرار رکھا جائے۔ ماہرین نے بتایا کہ سماجی طور پر متحرک افراد عموماً زیادہ لمبی زندگی گزارتے ہیں، دیگر افراد سے میل جول جذباتی زندگی کے لیے بہتر ہوتا ہے جس سے دماغی صحت اچھی ہوتی ہے۔ تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ سماجی تعلقات سے ڈپریشن اور انزائٹی امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے اور مشکلات سے بہتر طریقے سے لڑنے میں مدد ملتی ہے۔ کچھ نیا کرنے کی کوشش کریںنئے لوگوں، مقامات اور چیلنجز کا سامنا کرنے سے دماغ کو تیز رکھنے میں مدد ملتی ہے، دماغی لچک بڑھتی ہے جبکہ دماغ مضبوط ہوتا ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ کچھ نیا کرنے سے یہ مطلب نہیں کہ پیسے خرچ کریں، سفر کریں یا کوئی نیا مشغلہ اپنائیں، بلکہ عام کام جیسے پزل حل کرنے سے بھی دماغ کو فائدہ ہو سکتا ہے یا نئے لوگوں سے ملنا بھی دماغی صحت کے لیے مفید ہوتا ہے۔  

کیٹاگری میں : صحت