بلوچستان میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے 9 مسافروں کی تدفین کر دی گئی

بلوچستان میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے نو مسافروں کو آبائی علاقوں میں سپرد خاک کردیا گیا، شہدا کی نماز جنازہ میں شہریوں کی بڑی تعدا د میں شرکت،،سانحہ لورالائی میں دہشتگردی کے المناک واقعے نے ملک کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ شہداء میں دنیاپور کے دو سگے بھائی عثمان اور جابر، گجرات کا 23 سالہ بلاول علی، فیصل آباد کا شیخ ماجد، لاہور کا جنید، مظفرگڑھ کا محمد آصف، ڈی جی خان کا محمد عرفان،، خانیوال کا غلام سعید اور گوجرانوالہ کا صابر شامل ہیں۔ دنیاپور میں جب دو بھائیوں عثمان اور جابر کے جنازے ایک ساتھ اٹھے تو علاقے میں کہرام مچ گیا۔ نماز جنازہ میں اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور دونوں بھائیوں کو چوک قریشی میں سپرد خاک کیا گیا۔ فیصل آباد کے رہائشی شیخ ماجد، جو لورالائی میں کپڑے کے کاروبار سے وابستہ تھے، کو مقامی قبرستان میں دفنایا گیا، ان کے سوگواران میں بیوہ، والدہ اور تین بہن بھائی شامل ہیں۔ گجرات کے نوجوان بلاول علی کو بھی آبائی علاقے میں سپرد خاک کر دیا گیا، وہ دبئی سے حال ہی میں وطن واپس آیا تھا اور دوستوں سے ملنے کوئٹہ گیا ہوا تھا۔ لاہور کے جنید جو کوئٹہ میں اپنے سسرال سے واپسی آرہے تھے اسی بس میں سوار تھے جسے دہشت گردوں نے نشانہ بنایا انہیں بھی لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا باپ بیٹے کی جدائی نہ سہہ سکا ، بلوچستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے میاں چنوں کے غلام سعید کی میت گھر پہنچی ، تو بیمار والد غلام سرور بھی خالق حقیقی سے جا ملے،، دونوں باپ، بیٹے کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، شہید غلام سعید کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ سانحہ بلوچستان میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے والے محمد بلال کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں مکھڈ شریف تحصیل جنڈ میں ادا کی گئی مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والے مزدور محمد آصف کی نماز جنازہ بھی ادا کردی گئی۔ آصف کی صرف 3 ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی، شادی کے بعد مزدوری کے لیے بلوچستان چلا گیا۔3 ماہ بعد گھر واپس آرہا تھا