قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے شیرِ بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم ڈھاکا کی مشکل وکٹوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کنڈیشنز میں ایشیا کپ اور ورلڈ کپ کی تیاری ممکن نہیں۔ پوسٹ میچ پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مجھ سے ایشیا کپ یا ورلڈ کپ کی تیاری سے متعلق پوچھے، تو میرا صاف مؤقف یہی ہوگا کہ یہ وہ تیاری ہرگز نہیں تھی جس کی ہمیں ضرورت تھی۔ “مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں بنگلہ دیش کے علاوہ دنیا میں کہیں ایسی وکٹیں کھیلنے کو ملیں گی،” انہوں نے واضح کیا۔ سلمان علی آغا نے مزید کہا کہ اگرچہ میں عام طور پر وکٹوں پر تبصرہ نہیں کرتا، لیکن یہ وکٹیں میگا ایونٹس کی تیاری کے لیے موزوں نہیں تھیں۔ “میں ان وکٹوں سے نالاں نہیں ہوں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایشیا کپ یا ورلڈ کپ جیسی کنڈیشنز سے بالکل مختلف ہیں،” ان کا کہنا تھا۔ سلمان علی آغا نے کہا کہ ہم انٹرنیشنل کھلاڑی ہیں، اور بطور ٹیم ہمیں جہاں بھی جانا ہو، ہمیں وہاں کی کنڈیشنز کے مطابق خود کو ڈھال کر اچھی کارکردگی دکھانی ہوتی ہے۔ قومی ٹیم کی کپتان نے مزید کہا کہ ہم نے صورتحال کا اندازہ ضرور لگایا، لیکن ہم اپنے منصوبوں پر درست انداز میں عمل درآمد نہیں کرسکے۔ ایسا نہیں کہ ہم نے اندازہ نہیں لگایا، لیکن جس طرح ہمیں میدان میں چیزوں کو انجام دینا چاہیے تھا، ویسا نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ جو ٹیم ہم بنانا چاہتے ہیں، میرے خیال میں ہم درست راستے پر ہیں، ہم ایک پراسیس کو فالو کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ، چاہے ہم اولمپکس کے لیے کوالیفائی کریں یا ایشیا یا پھر ورلڈ کپ کے لیے، کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر ہم پراسیس کو فالو کرتے رہیں، تو یہ سب چیزیں خود بخود ساتھ آ جائیں گی۔ ایک سوال کے جواب میں سلمان علی آغا کا کہنا تھا نیوزی لینڈ کے دورہ کے دوران میں نے 2 ففٹیز بنائیں، ایک 40 پلس اسکور بھی کیا، اس کے بعد ہوم گراؤنڈ میں بنگلہ دیش کے ہی خلاف 50 اسکور کیا۔ ہاں، ان 2 میچز میں میں پرفارم نہیں کر سکا، لیکن جب سے میں کپتان بنا ہوں، میرے ٹی 20 کے نمبرز بہتر ہوئے ہیں، اگر آپ کو ایسا لگتا ہے، تو یہ آپ کی رائے ہے، لیکن مجھے لگتا ہے میں درست راستے پر جا رہا ہوں۔ پاکستان ٹی 20 ٹیم کے کپتان نے مزید کہا کہ ہر کھلاڑی کو سیکھنا ہوتا ہے اور اپنی صلاحیت میں بہتری لانی ہوتی ہے، یہی میری کوشش ہے۔ لیکن جہاں تک کپتانی کے بعد میری کارکردگی کا تعلق ہے، میں نہیں سمجھتا کہ وہ نیچے گئی ہے۔ سلمان علی آغا نے کہا کہ ایک ٹیم اور ایک کھلاڑی کے طور پر ہم ٹیم اور انفرادی پرفارمنس کی بات کرتے ہیں، ہم بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان ٹیم اور ہمارے کھلاڑیوں کی کارکردگی میں تسلسل آئے، یہی ہماری کوشش ہے۔ قومی ٹیم کے کپتان نے تیسرے ٹی 20 میچ میں صاحبزادہ فرحان کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اوپنر بلے باز نے شاندار کھیل پیش کیا۔ فرحان نے بیٹنگ کے آغاز سے ہی بولرز پر دباؤ ڈالا اور ہم بطور ٹیم بھی یہی بات کرتے ہیں کہ بولرز پر پریشر ڈالنا چاہیے، آج صاحبزادہ فرحان نے وہی کیا، ہم نے ابتدائی 2 میچز کے مقابلے میں آج بہتر کھیل پیش کیا ہے۔ قبل ازیں، پہلے ٹی 20 میچ میں شکست کے بعد قومی وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے شیرِ بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم کی پچ کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’پچ‘ کسی کے لیے بھی فائدہ مند نہیں تھی۔ اگر آپ ایشیا کپ یا ورلڈ کپ کی تیاری کر رہے ہیں تو یہ پچ ناقابل قبول ہے، بین الاقوامی کرکٹ میں ایسی پچ کا ہونا بھی مناسب نہیں ہے، یہ انٹرنیشنل معیار کی نہیں تھی خیال رہے کہ شیرِ بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم ڈھاکا میں کھیلے گئے ٹی 20 سیریز کے آخری مقابلے میں پاکستان نے میزبان بنگہ دیش کو 74 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دی تاہم سیریز بنگال ٹائیگر نے 1-2 سے اپنے نام کر لی ہے۔






