صوابی میں کلاؤڈ برسٹ؛ کئی گھر زیر آب، 15 افراد جاں بحق

خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں کلاؤڈبرسٹ اور لینڈسلائیڈنگ نے تباہی مچادی جب کہ متعدد افراد ریلے میں بہہ گئے اور کئی افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر صوابی نصراللہ خان نے کہا ہے کہ دالوڑی گاؤں میں کلاؤڈ برسٹ سے 12 گھر ڈوب گئے جس کے نتیجے میں 15 افراد کے جاں… ڈپٹی کمشنر نصراللہ خان نے بتایا کہ کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے سیلابی ریلے کا بہاؤ بہت تیز ہے، پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے مختلف مقامات پر لینڈسلائیڈنگ بھی ہوئی ہے، انتظامیہ،ریسکیو اور دیگر امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ روانہ ہوچکے ہیں۔ نصراللہ خان نے کہا کہ ہری پور اور مردان سے بھی ریسکیو ٹیمیں بلالیا گیا ہے، عوام رضاکارانہ طور پر متاثرہ علاقوں میں مدد کےلیے نکلیں۔ صوابی میں کلاوڈ برسٹ واقعہ سے متعلق وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کمشنر مردان اور دیگر حکام سے رابطہ کیا اور ڈیٹی کمشنر صوابی کو فوری طور پر متاثرہ علاقے میں پہنچنے اور ریسکیو سرگرمیوں کی نگرانی کی ہدایت کی۔ رپورٹ کے مطابق بادل پھٹنے کے نتیجے میں درجنوں گھر ڈوب گئے، شہری جان بچانے کے لیے گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے، 70 سے زائد محصور افراد کو سیلاب سے ریسکیو کرلیا گیا۔ صوابی کی تحصیلوں رزڑ، لاہور اور ٹوپی میں طوفانی بارش کے بعد گھروں میں پانی داخل ہوگیا تھا، جس کے بعد لوگوں نے جانیں بچانے کے لیے چھتوں پر پناہ لی۔ صوابی میں شدید بارشوں سے طغیانی آگئی، سٹیفہ موڑ گدون میں سیلابی ریلے میں کئی لوگ پھنس کر رہ گئے، متاثرہ افراد نے جان بچانے کے لیے گھروں کی چھتوں پر پناہ لے لی ہے اور امداد کے منتظر ہیں۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ تمام دستیاب وسائل، ریسکیو اور امدادی ٹیمیں جلد متاثرہ علاقے میں پہنچائی جائیں، ملحقہ اضلاع سے بھی ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقہ روانہ کی جائیں، لوگوں کو ریسکیو کرنے اور ان کی جانیں بچانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ تحصیل چئیرمن ٹوپی حاجی رحیم جدون نے کہا کہ حکومت فوری طور پر ہیلی کاپٹر علاقے میں روانہ کرے، لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے روڈ بند ہیں، لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے، راستے بند ہونے کی وجہ سے عوام کو مشکلات ہیں۔ دوسری جانب اسپتال ذرائع نے بتایا کہ دور افتادہ پہاڑی علاقے گدون امازئی کے گاؤں سرکوئی پایاں میں بھی مکان کی چھت گرگئی، ملبے تلے دب جانے سے 4 افراد جاں بحق اور 7زخمی ہوگئے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں دو خواتین اور دو بچے بھی شامل ہیں، لاشوں اور زخمیوں کو ٹوپی اسپتال لایا گیا ہے۔ ریسکیو 1122 نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گدون کے علاقے دراوڑی بالا میں حالیہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے پیش نظر ریسکیو 1122 کی امدادی سرگرمیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں، ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی کے دوران 70 سے زائد محصور افراد کو سیلابی پانی سے بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ ریسکیو آپریشن کی براہِ راست نگرانی ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122، طیب عبداللہ کر رہے ہیں۔ اس موقع پر ریسکیو 1122 کی ٹیمیں مردان، نوشہرہ، چارسدہ اور صوابی سے بھی آپریشن میں شریک ہیں، جو سرچ اینڈ ریسکیو سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں۔ ریسکیو 1122 عوام سے اپیل کرتا ہے کہ وہ سیلابی ریلوں کے دوران غیر ضروری طور پر پانی میں داخل ہونے اور رسک لینے سے گریز کریں۔