پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقے اس ہفتے شدید بارشوں اور ہولناک لینڈ سلائیڈز کی زد میں آ گئے، جس کے نتیجے میں محض 48 گھنٹوں میں 350 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ ندی نالے بپھرے دریاؤں کا منظر پیش کرنے لگے، پل اور سڑکیں بہہ گئیں، جب کہ کئی بستیاں مٹی کے تودوں اور سیلابی ریلوں میں دفن ہو گئیں۔ شدید متاثرہ علاقوں میں خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر شامل ہیں جہاں ریسکیو ٹیمیں سڑکوں کے ٹوٹنے کے باعث دور دراز وادیوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ بونیر، سوات اور مانسہرہ میں گھروں کے ملبے تلے دبے لوگ اور سڑکوں پر بکھری قیمتی اشیاء تباہی کی گواہی دے رہے ہیں۔ سیلابی تباہی کے بعد پاکستان کی مشہور شوبز شخصیات نے سوشل میڈیا پر غم اور یکجہتی کا اظہار کیا اور عوام سے امداد کی اپیل کی۔ گلوکار عاصم اظہر نے لکھا: “آج ہماری زمین رو رہی ہے، سیلاب نے خواب، گھر اور زندگیاں چھین لیں۔ ہمیں ایک قوم بن کر ایک دوسرے کا سہارا دینا ہوگا۔” ماڈل و اداکارہ نادیا حسین نے مختصر مگر بھرپور دعا کی: “یا اللہ! ہمارے ملک کو مزید آفات سے بچا۔” گلوکار عمیر جسوال نے سیاحوں سے اپیل کی کہ وہ شمالی علاقوں کا سفر نہ کریں تاکہ ریسکیو آپریشن متاثر نہ ہو۔ مصنفہ فاطمہ بھٹو نے امدادی سرگرمیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ متاثرین تک بروقت مدد کیوں نہیں پہنچ رہی؟






