رواں سال کے قرضوں کی ادائیگی کے انتظامات مکمل ہونے اور امریکا، چین سمیت بڑے ممالک کی پاکستان کو اپنی معاشی ترجیحات میں شامل کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے بھی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر کم رہی۔ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق چین کے ساتھ 8.5 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری معاہدوں اور عالمی مالیاتی اداروں کی پاکستان میں بڑھتی دلچسپی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مستحکم کیا۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت میں فی بیرل 87 سینٹ سے 1.32 ڈالر تک کمی سے درآمدی بل میں ممکنہ کمی کے امکانات بھی روپے کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوئے۔ آئندہ ماہ آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کی قسط کی توقع اور ڈالر اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن نے مارکیٹ میں ڈیمانڈ محدود رکھی۔ اس کے علاوہ ترسیلات زر میں اضافے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری سے بھی روپے کو سہارا ملا۔ ہفتہ وار کاروبار کے دوران انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 12 پیسے کی کمی سے 281.65 روپے پر بند ہوئی، جبکہ اوپن مارکیٹ میں 50 پیسے کی کمی کے بعد ڈالر 283.10 روپے پر بند ہوا۔ اسی طرح برطانوی پاؤنڈ کے انٹربینک ریٹ 82 پیسے کمی سے 379.24 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 1.68 روپے کمی سے 381.32 روپے رہے۔ یورو کی انٹربینک قدر 328.87 روپے اور اوپن مارکیٹ ریٹ 330.87 روپے ریکارڈ ہوئے۔ سعودی ریال انٹربینک میں 75.06 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 75.40 روپے پر بند ہوا۔ اماراتی درہم انٹربینک میں 76.68 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 77.10 روپے کی سطح پر آگیا۔






