بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ(سپارک) نے آئندہ مالی سال2026-27کے وفاقی بجٹ میں سگریٹ پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی(ایف ای ڈی) میں نمایاں اضافے کی تجویز پیش کر دی۔ سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ کی جانب سے دی گئی تجویز میں کہاگیا ہے کہ اس سے قومی خزانے کو 51 ارب روپے تک اضافی آمدن حاصل ہوگی، تجاویز میں کم قیمت سگریٹ کے پیکٹ پر کم از کم 35 روپے جبکہ مہنگے سگریٹ کے پیکٹ پر 21 روپے اضافہ کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ سپارک نے ٹیکس کے یکساں نظام کی طرف بتدریج منتقلی پر بھی زور دیاتاکہ قیمتوں میں فرق کم ہو اور سگریٹ کی دستیابی محدود ہو سکے۔ ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے نہ صرف حکومتی آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ تقریبا 3لاکھ70 ہزار نوجوانوں کو سگریٹ نوشی شروع کرنے سے روکنے میں مددملے گی اسی طرح2 لاکھ 70ہزار افراد کے اس عادت کو ترک کرنے کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی نہ صرف صحت بلکہ معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہے اور اس سے سالانہ کھربوں روپے کا معاشی بوجھ پڑتا ہے۔ سپارک کے پروگرام منیجر ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگرنے کہا کہ تمباکو نوشی ملکی صحت کے نظام پر شدید دبا ئوڈال رہی ہے اور ہر سال تقریبا دولاکھ قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فروری 2023 کے بعد سے سگریٹ پر ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے مہنگائی کے اثرات کے باعث سگریٹ نسبتا سستے ہو گئے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ جب تمباکو مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ نہ کیا جائے تو یہ عام آدمی کی پہنچ میں آ جاتی ہیں، جس سے خاص طور پر نوجوان طبقہ متاثر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ عرصے کے دوران ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے جو پالیسی سازی میں خلا کی نشاندہی کرتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان خطے میں سستے سگریٹ والے ممالک میں شامل ہوگیا ہے اس کا استعمال بڑھنے کا خدشہ بھی زیادہ ہے۔ ڈاکٹر خلیل احمد نے مرحلہ وار ٹیکس پالیسی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کم قیمت سگریٹ پر زیادہ شرح سے اضافہ اور مہنگے سگریٹ پر مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے تاکہ قیمتوں کا فرق کم ہو اور نوجوانوں کو اس لت سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی سگریٹ کی فروخت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے تاہم موثر پالیسی کے ذریعے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے اور اس سے نہ صرف آمدن بڑھے گی بلکہ نئی نسل کو محفوظ بنانے میں بھی مدد ملے گی






