اولاد کو فرمانبردار کیسے بنائیں؟ ماہرین سے جانیں

والدین کے لیے سب سے بڑا چیلنج اکثر بچوں کی ضد اور بات نہ ماننے کی عادت بن جاتی ہے۔ ڈانٹ ڈپٹ سے معاملہ مزید بگڑ جاتا ہے اور محبت بھی ہر بار کارگر نہیں ہوتی، ایسے میں ضروری ہے کہ بچے تک پہنچنے کے لیے درست طریقہ اپنایا جائے۔ والدین کا سفر ہمیشہ آسان نہیں ہوتا—کبھی بچوں کی معصوم مسکراہٹ سب کچھ بھلا دیتی ہے تو کبھی ان کی ضد والدین کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔ کئی بار حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ سمجھ نہیں آتا بچے کو کس انداز میں سمجھایا جائے۔ ڈانٹنے سے وہ مزید ضدی ہو سکتا ہے جبکہ محض نرمی اکثر مؤثر ثابت نہیں ہوتی۔ ایسے وقت میں کیا کیا جائے؟ ایک پیرنٹنگ کوچ کے مطابق اگر بچہ آپ کی بات نہیں مان رہا تو یہ اس کی غلطی نہیں بلکہ اس کے دل و دماغ تک صحیح راستے سے پہنچنے کی ضرورت ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ ماہرین ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ والدین اکثر چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ فوری طور پر ان کی بات سن لے، لیکن وہ خود بچے کی بات سننے میں ناکام رہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں بچوں کو لگتا ہے کہ ان کے جذبات کی قدر نہیں کی جاتی، ان سے ہی ہر چیز کی توقع کی جاتی ہے۔ ایسے میں جب آپ خود وقت نکال کر بچے کی بات غور سے سنتے ہیں تو بچہ بھی آہستہ آہستہ آپ کی باتوں کو اہمیت دینے لگتا ہے۔ یہ مرحلہ سب سے اہم ہے کیونکہ رشتے میں اچھا تعلق سننے سے شروع ہوتا ہے۔ صحیح وقت کا انتظار کریں ضروری نہیں کہ سب کچھ فوراً کہہ دیا جائے، کئی بار بچہ تھکا ہوا، پریشان یا چڑچڑے موڈ میں ہوتا ہے، اس وقت دی گئی تعلیم یا نصیحت بے اثر ہو جاتی ہے۔ جب بچے کا دماغ پرسکون ہو تو والدین کو اس سے بات کرنی چاہیے، صحیح وقت پر کہی گئی باتیں بچے کے دل تک پہنچتی ہیں اور گہرا اثر بھی ڈالتی ہیں۔ پڑھانے سے زیادہ سیکھنے کا رویہ رکھیں جب والدین ہر وقت سمجھانے اور سکھانے میں مصروف رہتے ہیں تو بچہ آہستہ آہستہ رد عمل کا شکار ہو جاتا ہے۔ منفی جواب دینا یا موضوع سے گریز کرنا اسی کا نتیجہ ہے لیکن اگر آپ بچے کے ساتھ سیکھنے کے انداز میں جڑیں گے تو وہ بھی آرام دہ محسوس کرے گا۔ جب بچہ محسوس کرتا ہے کہ اسے سنا اور سمجھا جا رہا ہے تو وہ والدین کے مشورے کو آسانی سے اپنا لیتا ہے۔ مثال سے سمجھانا زیادہ موثر ہے بعض اوقات براہ راست مشورہ بچوں کو بھاری لگتا ہے، ایسے میں کسی دوسرے بچے سے جڑی چھوٹی سی کہانی یا حقیقی زندگی سے جڑی مثال دینا زیادہ کارگر ثابت ہوتا ہے۔ پیرنٹنگ کوچ کا کہنا ہے کہ حقیقی واقعات سے متعلق کہانیاں اور مثالیں بچوں پر طویل مدتی اثر رکھتی ہیں کیونکہ وہ آسانی سے ان سے خود کو جوڑ سکتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت