وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کو حوصلہ افزا قرار دیا۔ نیو جرسی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ ملاقات میں معیشت، انسداد دہشت گردی، معدنیات، اے آئی، آئی ٹی اور کرپٹو کرنسی سمیت مختلف شعبوں پر بات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا تجارت، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں… وزیراعظم نے ٹیرف کے معاملات پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان معدنیات کی قیمت کا تعین مناسب انداز میں ہوگا اور تجارتی معاہدے باہمی مفادات کے تحت ہوں گے۔ شہباز شریف نے پاکستانی افواج کی بہادری کو بھی سراہا اور کہا کہ 6 تا 10 مئی کے دوران افواج پاکستان نے دشمن کو جنگ میں شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی نصرت سے افواج پاکستان نے کامیابی حاصل کی، جس کا شکر ادا کرنا کم ہے۔ وزیراعظم نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو بھی سراہا اور بتایا کہ انہوں نے دانشمندی سے افواج پاکستان کو جنگ میں رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران دشمن کے 7 طیارے گرائے گئے اور حملوں کے بعد دشمن نے جنگ بندی قبول کی۔ مزید برآں، وزیراعظم نے اپنے دورہ سعودی عرب کا بھی ذکر کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ وہ سعودی عرب گئے اور وہاں انکا شاندار استقبال کیا گیا، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 40 سال میں اس طرح کا استقبال نہیں دیکھا۔ وزیراعظم نے ملک کی معیشت میں بہتری پر بھی گفتگو کی، انہوں نے کہا کہ ملکی حالات چند سال پہلے مشکلات کا شکار تھے۔ جب اقتدار سنبھالا تو اس وقت بھی معاشی چیلنجز تھے، مہنگائی 32 فیصد تھی لیکن اب مہنگائی ڈیڑھ سال میں کم ہوکرسنگل ڈیجٹ میں آگئی ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ جب اقتدار سنبھالا تو پالیسی ریٹ ساڑھے 22 فیصد تھا، آج 11فیصد پر ہے۔ وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانیوں کو عظیم پاکستانی سفیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں نے سال 24۔25 میں ساڑھے 38 ارب ڈالر ملک بھجوائے۔ ملک کی اس وقت معاشی صورتحال مائیکرو لیول پر مستحکم ہوچکی ہے۔






