فلوٹیلا میں شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے: دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ، شفقت علی خان نے کہا ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا میں موجود پاکستانی شہریوں کی سلامتی اور فلاح و بہبود حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اور پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا۔ ترجمان نے بیان میں کہا کہ اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں اور یہ انسانی مشن اور عالمی یکجہتی و… شفقت علی خان نے مزید کہا کہ فلوٹیلا میں موجود پاکستانی شہریوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے حکومتِ پاکستان تمام بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ فوری رہائی ممکن ہو سکے۔ بی بی سی کے مطابق، فلوٹیلا میں شامل دو پاکستانی شہریوں سے آخری مرتبہ گزشتہ رات رابطہ ہوا تھا۔ ان میں سابق سینیٹر مشتاق احمد اور 32 سالہ سید عزیر نظامی شامل ہیں۔ عزیر نظامی لاہور میں کاروباری شعبے سے وابستہ ہیں اور تفسیر و احادیث کی تعلیم بھی دیتے ہیں۔ ان کی اہلیہ نے بتایا کہ وہ 3 ستمبر کو فلوٹیلا میں شامل ہونے کے لیے پاکستان سے تیونس روانہ ہوئے تھے اور لاہور میں پرفیوم کا چھوٹا سا کاروبار چلاتے ہیں۔ واضح رہے کہ یکم اور 2 اکتوبر کی درمیانی رات اسرائیلی افواج نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے فلوٹیلا پر کارروائی کی، جس میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، سابق سینیٹر مشتاق احمد اور 37 دیگر ممالک کے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے باوجود، فلوٹیلا کی 44 میں سے کم از کم 4 کشتیاں مشن کی تکمیل کے لیے غزہ کی جانب روانہ رہیں، جبکہ باقی 40 کشتیوں کو اسرائیلی نیوی نے روک لیا تھا۔ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان گلوبل صمود فلوٹیلا میں پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے تھے، انہیں اسرائیلی افواج نے جہاز پر چڑھائی کرنے کے دوران حراست میں لیا تھا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پاک-فلسطین فورم نے لکھا کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو اسرائیل نے گرفتار کر لیا ہے۔ گروپ نے مزید کہا کہ صرف ایک جہاز بچ نکلنے میں کامیاب ہوا، یعنی مبصر کشتی، جس کی ذمہ داری معلومات اکٹھی کرنا اور واپس جانا تھا۔ ہمارے ایک مندوب سید عذیر نظامی مبصر کشتی پر سوار تھے اور انہوں نے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کے جہاز پر اسرائیلی کارروائی کی اطلاع دی۔ ترجمان گلوبل صمود فلوٹیلا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج نے فلوٹیلا میں شامل 37 ممالک کے 200 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ گلوبل صمود فلوٹیلا کے ترجمان سیف ابو کشیک نے انسٹاگرام پر ایک ’مشن اپ ڈیٹ‘ جاری کی ہے، جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ اسرائیلی افواج نے سمندر میں 13 کشتیوں کو روک لیا تھا۔ ابو کشیک نے بتایا تھا کہ ان کشتیوں میں 37 ممالک کے 201 سے زائد افراد سوار تھے، جن میں اسپین کے 30 شرکا، اٹلی کے 22، ترکی کے 21 اور ملائیشیا کے 12 شامل تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ گرفتاریوں کے باوجود گروپ کا مشن جاری ہے، اور جہاز اب بھی بحیرۂ روم کے راستے غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے رواں دواں ہیں۔