ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس ایسی آڈیو ریکارڈنگز بھی موجود ہیں جن میں بیرونِ ملک سے دہشت گرد ایجنٹس کو پولیس اور مظاہرین پر فائرنگ کے احکامات دیے جا رہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو انٹرویو میں بتایا کہ یہ اسلحہ اور دھماکا خیز مواد شرپسندوں نے اپنے گھروں میں چھپا کر رکھے تھے اور بیرونِ ملک سے ہدایات لے رہے تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس ایسی آڈیو ریکارڈنگز بھی موجود ہیں جن میں بیرونِ ملک سے دہشت گرد ایجنٹس کو پولیس اور مظاہرین پر فائرنگ کے احکامات دیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ اُسی وقت بند کیا گیا جب ہمیں یقین ہوگیا کہ دہشت گردوں کو ان کارروائیوں کی ہدایات ملک سے باہر سے آ رہی ہیں۔ جن کا مقصد قتل و غارت پھیلانا تھا۔” یاد رہے کہ ایران اس سے قبل بھی امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کر چکا ہے کہ وہ احتجاج کو پرتشدد بنانے کے لیے غیر ملکی ایجنٹس استعمال کر رہے ہیں۔ ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق تہران سمیت مختلف شہروں میں مظاہروں کے دوران گاڑیاں اور عمارتیں نذرِ آتش کی گئیں جب کہ سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں بھی جاری ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صدر ٹرمپ کی فوجی کارروائی کی دھمکیوں پر کہا کہ اگر امریکا فوجی آپشن آزمانا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں۔ یہ آپشن پہلے بھی آزمایا جا چکا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اب بھی مذاکرات کو ہی دانشمندانہ راستہ سمجھتا ہے مگر بعض طاقتیں امریکا کو اسرائیل کے مفادات کے لیے جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہیں۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے دفتر کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت اعلیٰ حکام صدر ٹرمپ کو سفارتی اور فوجی آپشنز پیش کر رہے ہیں۔






