بینائی کو خطرے سے بچانے والی دریافت!

نیویارک کی یونیورسٹی آف میسوری کے سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں کہا ہے کہ دو قدرتی مادے اگمیٹائن اور تھیامین گلوکوما کے مرض کو بینائی ضائع ہونے سے پہلے پہچاننے اور روکنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق گلوکوما کے مریضوں کی آنکھ میں پائے جانے والے شفاف مائع میں ان دونوں مادّوں کی مقدار عام لوگوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ اس لئے اگر ان مادّوں کی کمی جلدی جان لی جائے تو بیماری کو ابتدائی مرحلے میں ہی روکا جا سکتا ہے۔ اب تک گلوکوما کے علاج میں صرف آنکھ کا دباؤ کم کرنے پر توجہ دی جاتی رہی ہے، لیکن اس سے آنکھ کے وہ اعصابی خلیے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ پاتے جو دماغ تک بینائی کے سگنل بھیجتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اگمیٹائن اور تھیامین کی مدد سے مستقبل میں ایسی ادویات یا آئی ڈراپس تیار کی جا سکتی ہیں جو ان خلیوں کو نقصان سے بچائیں اور بینائی برقرار رکھیں۔ ماہرین کے مطابق مزید تحقیق جاری ہے تاکہ خون کے ایک سادہ ٹیسٹ سے بھی ان مادّوں کی مقدار معلوم کر کے گلوکوما کی بروقت تشخیص ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اگر یہ طریقہ کامیاب ہو گیا تو مستقبل میں گلوکوما کے باعث بینائی ختم ہونے کے خطرات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت