زیادہ تر والدین بچوں کی خوراک کو لے کر خاصے فکرمند رہتے ہیں اور اکثر اس بات کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ بچے باہر کی چیزیں جیسے چپس، چاکلیٹ اور دیگر اسنیکس زیادہ کھاتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی بار والدین لاعلمی میں خود ہی بچوں کو ایسی غذائیں دے دیتے ہیں جو ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ بازار میں کچھ اشیا کو صحت بخش کہہ کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں ان کا صحت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مشہور آرتھوپیڈک سرجن نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں خبردار کیا ہے کہ پیک شدہ فروٹ جوس بچوں کی صحت کے لیے خاموش نقصان کا باعث بن رہا ہے۔ ان کے مطابق، والدین روزانہ بچوں کو فروٹ جوس اس نیت سے دیتے ہیں کہ یہ غذائیت سے بھرپور ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق مارکیٹ میں دستیاب فروٹ جوس میں قدرتی فائبر تقریباً ختم ہو چکا ہوتا ہے، جبکہ اس میں بڑی مقدار میں ریفائنڈ شوگر، صنعتی نشاستہ، مصنوعی رنگ اور فلیور شامل کیے جاتے ہیں۔ یہ اجزا بچوں کے جسم میں زیادہ مقدار میں فرکٹوز پہنچاتے ہیں، جو فیٹی لیور جیسی سنگین بیماری کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ بین الاقوامی طبی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ فروٹ جوس یا دیگر میٹھے مشروبات پینے والے بچوں میں موٹاپے، انسولین ریزسٹنس اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچوں میں فیٹی لیور جیسی بیماری ایک خاموش مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر ایک سے پانچ سال کی عمر کے کئی بچوں میں جگر میں چربی جمع ہونے کے کیسز دیکھے گئے ہیں، جن کی ایک بڑی وجہ روزانہ فروٹ جوس کا استعمال بتایا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق فرکٹوز جگر میں جا کر چربی میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس سے آہستہ آہستہ جگر متاثر ہوتا ہے، جبکہ اس بیماری کی ابتدا میں کوئی واضح علامات بھی ظاہر نہیں ہوتیں۔ ماہرین غذائیت اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ چاہے جوس پر ”100 فیصد فروٹ جوس“ ہی کیوں نہ لکھا ہو، پھر بھی یہ پورے پھل کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ پورا پھل چبانے سے فائبر برقرار رہتا ہے، جو شکر کے جذب ہونے کی رفتار کو سست کرتا ہے، جبکہ جوس میں یہ حفاظتی عنصر موجود نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر ز کے مطابق فروٹ جوس کی طرح کریم بسکٹ بھی بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں، کیونکہ ان میں بھی ریفائنڈ شوگر، کاربوہائیڈریٹس اور مصنوعی اجزا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ یہ غذائیں وقتی طور پر توانائی ضرور دیتی ہیں، مگر بچوں کے جگر اور مجموعی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔






