ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں دو مسلسل بدترین شکستوں کے بعد آسٹریلیا سپر ایٹ مرحلے سے باہر ہونے کے خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔ پہلے زمبابوے کے ہاتھوں 23 رنز اور پھر سری لنکا کے خلاف 8 وکٹوں کی شکست نے آسٹریلوی ٹیم کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ مچل مارش کی قیادت میں آسٹریلیا کو اب اگلے مرحلے میں رسائی کے لیے دیگر ٹیموں کے نتائج پر انحصار کرنا ہوگا۔ ٹیم کو امید ہے کہ آئرلینڈ زمبابوے کو شکست دے جبکہ سری لنکا بھی زمبابوے کو ہرا دے تاکہ آسٹریلیا کی امیدیں برقرار رہ سکیں۔ آسٹریلیا کی فاسٹ بولنگ لائن اپ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ مچل اسٹارک کی ریٹائرمنٹ اور پیٹ کمنز و جوش ہیزل ووڈ کی انجری کے باعث ٹیم ایک دہائی بعد ایسے ورلڈ کپ میں شریک ہوئی جہاں اس کے تجربہ کار فاسٹ بولرز موجود نہیں۔ متبادل بولرز خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے جبکہ لیگ اسپنر ایڈم زمپا بھی وکٹ لینے میں ناکام رہے۔ بیٹنگ شعبہ بھی اسپن کے خلاف مشکلات کا شکار رہا۔ سری لنکا کے خلاف آسٹریلیا نے 104 رنز کے مضبوط آغاز کے بعد 77 رنز کے اندر 10 وکٹیں گنوا دیں۔ اسکواڈ سلیکشن پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تجربہ کار بیٹر اسٹیو اسمتھ کو ابتدائی اسکواڈ میں شامل نہ کرنے پر سابق کھلاڑیوں اور مداحوں نے شدید تنقید کی۔ سابق کرکٹر مارک وا نے کہا کہ سلیکشن فیصلے ابتدا ہی سے غلط تھے اور اسمتھ کو نظر انداز کرنا ناقابلِ فہم ہے۔ آسٹریلیا نے 2021 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور چھ ون ڈے ورلڈ کپ جیت رکھے ہیں، تاہم اس بار ٹیم کی کارکردگی نے شائقین کو مایوس کیا ہے اور اب ان کی بقا کا دار و مدار دیگر ٹیموں کے نتائج پر ہے۔






