ایرانی پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان، عالمی منڈی میں تشویش

ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے اور تاحکمِ ثانی کسی بھی جہاز کو اس گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ایران کی پاسداران انقلاب فورس کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معطل کر دی… عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا کے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ یہ اہم آبی گزرگاہ محض 40 کلومیٹر چوڑی ہے مگر عالمی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ خبر ایجنسیوں کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران سمیت خلیجی ممالک سے تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے دیگر ممالک کو برآمد کی جاتی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک قطر بھی اپنی گیس کی برآمدات کے لیے اسی گزرگاہ پر انحصار کرتا ہے۔ اسی طرح اوپیک کے رکن ممالک ایشیائی ممالک کو زیادہ تر خام تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہی فراہم کرتے ہیں۔ عالمی منڈی میں ممکنہ اثرات ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ، سپلائی چین میں خلل اور توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری کی نظریں اب اس اہم آبی گزرگاہ کی صورتحال پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔